حیدرآباد ۔ جنوبی ریاستوں کی سیاسی نمائندگی کے مسئلے پر نیا تنازع سامنے آ گیا ہے، جہاں مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ بنڈی سنجے کمار نے کانگریس اور انڈیا اتحاد پر شدید الزامات عائد کیے ہیں۔ مزید برآں، انہوں نے اسے جنوبی ریاستوں کے مفادات کے خلاف اقدام قرار دیا۔
پس منظر کے طور پر، کریم نگر کے رکن پارلیمنٹ بنڈی سنجے نے اپنے بیان میں کہا کہ اپوزیشن نے ان اقدامات کی حمایت نہیں کی جو مستقبل میں نشستوں کی از سر نو تقسیم کے دوران جنوبی ریاستوں کے تحفظ کے لیے پیش کیے گئے تھے۔ تاہم، انہوں نے اس صورتحال کو “تاریخی دھوکہ” قرار دیا۔
بنڈی سنجے کے مطابق، یہ مسئلہ آرٹیکل 81 کے تحت نشستوں کے تعین پر عائد پابنڈی کے خاتمے سے جڑا ہوا ہے جو 2026 کے بعد ہونے والی مردم شماری کے بعد ختم ہو سکتی ہے۔ اسی طرح، اس کے نتیجے میں آبادی کی بنیاد پر نشستوں کی نئی تقسیم ممکن ہے۔
حد بنڈی اور نمائندگی کے خدشات | South Representation Issue
انہوں نے خبردار کیا کہ وہ ریاستیں جنہوں نے آبادی پر قابو پایا اور ترقی میں سرمایہ کاری کی، وہ اپنی سیاسی اہمیت کھو سکتی ہیں۔ مزید یہ کہ تلنگانہ، آندھرا پردیش، کرناٹک، تمل ناڈو اور کیرالہ جیسے ریاستیں اس خطرے سے دوچار ہو سکتی ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ این ڈی اے حکومت نے ان خدشات کو دور کرنے کے لیے حفاظتی اقدامات تجویز کیے تھے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے کہا کہ مرکز حد بنڈی کے نظام میں ترمیم کے لیے بھی آمادگی ظاہر کر چکا ہے۔
سیاسی ردعمل اور وفاقی توازن | South Representation Issue
انہوں نے وزیر داخلہ امیت شاہ کی یقین دہانیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نشستوں میں اضافہ کرنے کی تجاویز پیش کی گئیں تاکہ جنوبی ریاستوں کا حصہ کم نہ ہو۔ تاہم، انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن نے اس اقدام کی حمایت نہیں کی۔
دریں اثنا، بنڈی سنجے نے کہا کہ اپوزیشن نے طویل مدتی مفادات کے بجائے سیاسی فائدے کو ترجیح دی۔ لہٰذا، انہوں نے الزام عائد کیا کہ منصفانہ نمائندگی اور انتخابی توازن سے متعلق اقدامات کو روک دیا گیا۔
آخر میں، انہوں نے کہا کہ اس پیش رفت نے اپوزیشن کے ان دعووں کو بے نقاب کر دیا ہے جن میں وہ جنوبی ریاستوں کی حمایت کا دعویٰ کرتی ہے، جبکہ یہ مسئلہ وفاقی توازن پر بھی دور رس اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
Congress & INDI alliance have committed a historic betrayal of the South.
They shout “South Pride” outside, but inside Parliament they killed the 131st Amendment Bill that was meant to protect southern states when the Article 81 freeze ends after the first Census post-2026.… pic.twitter.com/w9sJZ0mh1a
— Bandi Sanjay Kumar (@bandisanjay_bjp) April 18, 2026
