حیدرآباد ۔ شہر میں مجوزہ احتجاج سے قبل تلنگانہ بی جے پی کے صدر این رام چندر راؤ کو پولیس نے نظر بند کر دیا، جس سے سیاسی ماحول میں کشیدگی بڑھ گئی۔ مزید برآں، پولیس نے دیگر رہنماؤں پر بھی پابندیاں عائد کرتے ہوئے احتجاج کو روکنے کے اقدامات کیے۔
پس منظر کے طور پر، بی جے پی نے پارلیمنٹ میں بلوں کی ناکامی کے بعد ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا تھا۔ تاہم، ریاستی یونٹ نے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی کی رہائش گاہ کے سامنے مظاہرے کا منصوبہ بنایا تھا۔
پولیس نے صورتحال کے پیش نظر سیکیورٹی سخت کر دی اور بی جے پی رہنماؤں کو ان کے گھروں تک محدود کر دیا۔ اسی دوران، این رام چندر راؤ سمیت دیگر رہنماؤں کو تارناکہ میں نظر بند کیا گیا تاکہ احتجاج کو روکا جا سکے۔
سیاسی تنقید اور الزامات | House Arrest Protest
این رام چندر راؤ نے پارلیمنٹ میں ہونے والی پیش رفت پر کانگریس کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین ریزرویشن بل کی مخالفت کر کے پارٹی نے خواتین کی آواز دبائی ہے۔
مزید برآں، انہوں نے ریاستی حکومت پر جمہوریت کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔ ان کے مطابق، احتجاج کو روکنا جمہوری حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
جمہوری حقوق اور سیاسی موقف | House Arrest Protest
انہوں نے یہ بھی کہا کہ کانگریس نے بل کے معاملے پر دوہرا معیار اپنایا، کیونکہ پہلے اس کی حمایت کی گئی اور بعد میں مخالفت کی گئی۔ علاوہ ازیں، ان کا کہنا تھا کہ 33 فیصد ریزرویشن سے خواتین کو سیاست میں مزید مواقع مل سکتے تھے۔
انہوں نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس بل کو دہائیوں تک مؤخر کیا جاتا رہا۔ دریں اثنا، انہوں نے موجودہ پابندیوں کو “ایمرجنسی جیسی صورتحال” قرار دیا۔
آخر میں، انہوں نے خبردار کیا کہ عوام خواتین کے حقوق اور جمہوری اظہار کو روکنے کی کوششوں کو معاف نہیں کریں گے، جس سے سیاسی کشیدگی مزید بڑھنے کا امکان ظاہر کیا گیا۔
అక్రమ గృహనిర్బంధాలతో మహిళల ఆగ్రహాన్ని అణచివేయవచ్చని ముఖ్యమంత్రి రేవంత్ రెడ్డి గారు అనుకుంటే, అంతకంటే పొరపాటు మరొకటి లేదు.
గౌరవ ప్రధాని శ్రీ @narendramodi గారి చిత్తశుద్ధితో కూడిన మహిళా రిజర్వేషన్ బిల్లును చట్టసభల్లో అడ్డుకోవడం ద్వారా కాంగ్రెస్, INDI కూటమి తమ మహిళా వ్యతిరేక… pic.twitter.com/qkG5zsseVm
— N Ramchander Rao (@N_RamchanderRao) April 18, 2026
