حیدرآباد ۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے کالیشورم کمیشن رپورٹ سے متعلق مقدمے میں فیصلہ مؤخر کرتے ہوئے قانونی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ مزید برآں عدالت نے درخواستوں پر سماعت مکمل ہونے کے باوجود فیصلہ سنانے کو مؤخر کر دیا۔ تاہم، اس پیش رفت نے اس اہم معاملے پر غیر یقینی صورتحال کو برقرار رکھا ہے۔
پس منظر کے طور پر عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد کیس کو 22 اپریل تک ملتوی کر دیا۔ اس سے قبل عدالت نے تفصیلی بحث کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ اس دوران کمیشن کی رپورٹ کی قانونی حیثیت اور اس کے نتائج پر سوالات اٹھائے گئے۔
یہ کمیشن کانگریس حکومت نے تشکیل دیا تھا تاکہ بی آر ایس دور میں بنائے گئے کالیشورم منصوبے میں مبینہ بے ضابطگیوں کا جائزہ لیا جا سکے۔ مزید برآں تحقیقات میں میڈی گڈہ بیراج کے دھنسنے اور فنڈز کے مبینہ غلط استعمال جیسے معاملات شامل تھے۔
کمیشن رپورٹ پر قانونی چیلنج | Legal Review
مزید تفصیلات کے مطابق کے چندرشیکھر راؤ، سابق وزیر ٹی ہریش راؤ، آئی اے ایس افسر اسمیتا سبر وال اور سابق چیف سیکریٹری ایس کے جوشی نے عدالت سے رجوع کیا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ کمیشن نے ان کے دلائل کو مناسب طور پر مدنظر نہیں رکھا۔
مزید برآں درخواست گزاروں نے کہا کہ تحقیقات میں قدرتی انصاف کے اصولوں کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ لہٰذا انہوں نے عدالت سے گزارش کی کہ کمیشن کی رپورٹ کو کالعدم قرار دیا جائے۔
عدالت میں دلائل اور فیصلہ مؤخر | Legal Review
اسی دوران ہائی کورٹ بنچ نے درخواست گزاروں اور حکومت دونوں کے دلائل تفصیل سے سنے۔ مزید برآں سماعت مکمل ہونے کے باوجود عدالت نے فوری فیصلہ سنانے کے بجائے اسے مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا۔
نتیجتاً اب اس مقدمے کا فیصلہ 22 اپریل کو سنایا جائے گا۔ تاہم، اس تاخیر نے سیاسی اور قانونی حلقوں میں مزید بحث کو جنم دیا ہے۔
اختتامیہ کے طور پر کہا جا رہا ہے کہ اس کیس کا فیصلہ نہ صرف کالیشورم منصوبے بلکہ ریاستی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
