حیدرآباد: تلنگانہ کو تعمیلی ضوابط میں کمی سے متعلق اصلاحات کے مؤثر نفاذ پر مرکزی حکومت کی جانب سے ستائش حاصل ہوئی ہے۔ یہ بات منگل کے روز سیکریٹریٹ میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں سامنے آئی۔ اجلاس کی صدارت چیف سیکریٹری کے رام کرشن راؤ نے کی، جبکہ مرکزی حکومت کی نمائندگی سکروتی لیکھی نے کی۔
مرکزی عہدیداروں نے اصلاحاتی عمل کے پہلے مرحلے میں ریاست کی کارکردگی کو سراہا۔ اسی کے ساتھ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ تلنگانہ دوسرے مرحلے میں بھی اسی رفتار اور سنجیدگی کے ساتھ کامیابی حاصل کرے گا۔
دوسرا مرحلہ اور ترجیحی شعبے | Regulatory Reforms
اجلاس میں بتایا گیا کہ اصلاحات کے دوسرے مرحلے میں 23 ترجیحی شعبے اور 5 اختیاری فوکس ایریاز شامل ہیں۔ ان تمام اقدامات کا مقصد طریقہ کار کو آسان بنانا اور کاروبار کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہے۔
چیف سیکریٹری نے واضح کیا کہ ریاست ان اصلاحات کو مقررہ وقت سے پہلے مکمل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ اسی لیے انہوں نے تمام محکموں کو ہدایت دی کہ آئندہ بجٹ اجلاس کے دوران ضروری قانون سازی تیار کر کے پیش کی جائے۔
ادارہ جاتی تعاون اور آئندہ حکمت عملی | Regulatory Reforms
اجلاس کے اختتام پر اس بات پر زور دیا گیا کہ ضابطہ جاتی اصلاحات کو قومی پالیسی اہداف کے مطابق آگے بڑھایا جائے۔ شرکاء نے کہا کہ اگر رفتار برقرار رکھی گئی اور ادارہ جاتی تعاون مضبوط رہا تو نتائج مزید بہتر ہوں گے۔
اس موقع پر ریاستی حکومت کے سینئر افسران جیش رنجن، سنجے کمار، احمد ندیم، لوکیش کمار، ٹی کے سری دیوی، رگھونندن راؤ اور سریندر موہن بھی موجود تھے۔ اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ اصلاحاتی عمل کو مسلسل اور مؤثر انداز میں جاری رکھا جائے گا تاکہ ریاستی نظم و نسق مزید مستحکم ہو سکے۔
