حیدرآباد: تلنگانہ کے ضلع کومرم بھیم آصف آباد میں واقع گورنمنٹ نرسنگ کالج کی پرنسپل کو سنگین انتظامی کوتاہیوں اور طلبہ کی متعدد شکایات کے بعد معطل کر دیا گیا ہے۔ ضلعی کلکٹر کے ہریتا نے اچانک معائنہ کے دوران سامنے آنے والی بے ضابطگیوں کے بعد یہ کارروائی عمل میں لائی۔ چنانچہ، تعلیمی ادارے کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
معائنہ کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ پرنسپل بی ونود ڈیوٹی سے غیر حاضر تھیں اور ان کا دفتر مقفل پایا گیا۔ اس کے علاوہ، اساتذہ اور طلبہ نے حکام کو بتایا کہ وہ 29 جنوری کے بعد سے کالج نہیں آئیں۔ مزید یہ کہ، انہوں نے بغیر پیشگی اجازت ضلع ہیڈکوارٹر چھوڑ دیا تھا۔
تعلیمی کوتاہیاں اور ہاسٹل کی خراب صورتحال | Nursing College
ضلعی کلکٹر نے بتایا کہ دسمبر 2025 میں تعلیمی سال شروع ہونے کے باوجود اب تک باقاعدہ کلاسس کا آغاز نہیں ہو سکا۔ اس بات کی تصدیق معائنے کے دوران طلبہ اور عملے دونوں نے کی۔ نتیجتاً، طلبہ کی تعلیم بری طرح متاثر ہو رہی تھی۔
حکام نے یہ بھی پایا کہ طلبہ کو غیر صحت بخش حالات میں رکھا جا رہا ہے۔ ہاسٹل میں صفائی کا ناقص انتظام تھا اور فراہم کیے جانے والے کھانے کے معیار پر بھی شدید اعتراضات سامنے آئے۔ اسی دوران، طلبہ نے شکایت کی کہ پرنسپل انہیں صفائی اور ذاتی نوعیت کے کاموں پر مجبور کرتی تھیں۔
طلبہ کے مطابق، انہیں آوارہ کتوں اور بلیوں کی دیکھ بھال اور خوراک دینے پر بھی دباؤ ڈالا گیا۔ مزید برآں، لڑکیوں کے ہاسٹل کے اندر سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب نے طالبات میں ذہنی دباؤ اور بے چینی پیدا کی۔
انکوائری مکمل ہونے تک معطلی برقرار | Nursing College
ان تمام حقائق کی بنیاد پر ضلعی انتظامیہ نے بی ونود کو فوری طور پر معطل کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق، یہ معطلی تادیبی کارروائی اور کسی بھی متعلقہ فوجداری مقدمے کے اختتام تک برقرار رہے گی۔ اس طرح، تحقیقات کو آزادانہ طور پر آگے بڑھانے کی راہ ہموار کی گئی ہے۔
ضلعی کلکٹر نے معطل پرنسپل کو ہدایت دی ہے کہ وہ ضلع ہیڈکوارٹر میں ہی مقیم رہیں۔ ساتھ ہی، انہیں پیشگی اجازت کے بغیر ضلع چھوڑنے سے روک دیا گیا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق، طلبہ کے مفاد اور تعلیمی معیار کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔
