حیدرآباد: کوروٹلہ بلدیاتی انتخابات کے دوران ایک وارڈ امیدوار کی جانب سے 12 گھنٹوں کے اندر دو بار پارٹی تبدیل کرنے کے واقعے نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی۔ یہ غیر معمولی پیش رفت جگتیال ضلع کے کوروٹلہ قصبے میں موضوعِ بحث بن گئی۔ واقعہ وارڈ نمبر 8 سے ٹکٹ کے خواہشمند امیدوار سے متعلق ہے۔
ابتدائی طور پر تھوٹا گنگادھر نے وارڈ نمبر 8 سے بلدیاتی الیکشن لڑنے کا ارادہ کیا تھا۔ تاہم، کانگریس کی جانب سے واضح جواب نہ ملنے پر انہوں نے متبادل سیاسی راستے تلاش کرنا شروع کر دیے۔ اسی وجہ سے سیاسی صورتحال تیزی سے بدلتی چلی گئی۔
جمعرات کی صبح انہوں نے بھارت راشٹرا سمیتی میں شمولیت اختیار کی۔ اسی دوران مقامی ایم ایل اے کلواکنٹلا سنجے خود ان کی رہائش گاہ پہنچے اور پارٹی میں ان کا خیر مقدم کیا۔ اس پیش رفت کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ تاثر پیدا ہوا کہ وہ بی آر ایس کے امیدوار کے طور پر میدان میں اتریں گے۔
رات گئے سیاسی رابطے اور واپسی | Municipal Drama
جیسے ہی پارٹی تبدیلی کی خبر پھیلی، کانگریس قیادت نے فوری طور پر حرکت میں آنا مناسب سمجھا۔ چنانچہ پارٹی نے ایک مضبوط امیدوار کو کھونے سے بچانے کے لیے تیز رفتار رابطے شروع کیے۔ اسی سلسلے میں کانگریس کے حلقہ انچارج جووّادی نرسنگا راؤ نے جمعرات کی رات گنگادھر سے تفصیلی بات چیت کی۔
مذاکرات کے دوران کانگریس نے انہیں وارڈ نمبر 8 کا ٹکٹ دینے کی یقین دہانی کرائی۔ اس پیشکش کے بعد گنگادھر نے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کی۔ نتیجتاً وہ دوبارہ کانگریس میں شامل ہو گئے اور میٹ پلی کے پارٹی دفتر میں واپسی کا اعلان کیا۔
انتخابات میں نئی گتھی | Municipal Drama
چند گھنٹوں میں پیش آنے والی اس تیز رفتار سیاسی تبدیلی نے کوروٹلہ بلدیاتی انتخابات کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے۔ اگرچہ اس واقعے نے مقامی سیاست میں نئی گتھی پیدا کر دی، تاہم دونوں جماعتوں کے قائدین نے اس معاملے پر کھلے عام تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات نہ صرف انتخابی حکمت عملی کو متاثر کرتے ہیں بلکہ ووٹروں کی توجہ بھی اپنی جانب کھینچ لیتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس واقعے کے اثرات انتخابی فضا پر مزید واضح ہونے کا امکان ہے۔
