حیدرآباد: جوبلی ہلز پولیس نے ایک نجی کمپنی کے ایچ آر منیجر کے خلاف خاتون ساتھی کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے اور عہدے کے غلط استعمال کے الزام میں مقدمہ درج کیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم سوامی ریڈی کے خلاف پوش ایکٹ اور متعلقہ فوجداری قوانین کے تحت کارروائی کی گئی ہے۔ اسی لیے معاملے کی باقاعدہ تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔
پس منظر کے طور پر، متاثرہ خاتون نے اپنی شکایت میں بتایا کہ ملزم طویل عرصے سے نامناسب رویہ اختیار کر رہا تھا۔ وہ بار بار اسے پب اور نجی ملاقاتوں کے لیے دباؤ ڈالتا رہا، جبکہ انکار کی صورت میں پیشہ ورانہ نتائج کی دھمکیاں بھی دیتا تھا۔ نتیجتاً، کام کی جگہ پر اس کا تحفظ اور اعتماد متاثر ہوا۔
اختیار کے غلط استعمال کا الزام | Workplace Harassment
خاتون کے مطابق، ایک سابقہ کمپنی ٹرپ کے دوران بھی ملزم نے زبردستی کی کوشش کی اور نامناسب حرکات کیں۔ تاہم، مزاحمت کے بعد اس نے مبینہ طور پر پیشہ ورانہ انتقام شروع کیا، جس میں عہدہ گھٹانا اور ساتھیوں کے سامنے تضحیک کرنا شامل تھا۔ لہٰذا، یہ معاملہ محض ذاتی رویے تک محدود نہیں رہا بلکہ ادارہ جاتی اختیار کے غلط استعمال کی شکل اختیار کر گیا۔
انہوں نے کہا کہ مسلسل ہراسانی نے اس کی عزتِ نفس اور ذہنی صحت کو شدید متاثر کیا۔ اسی تناظر میں، انہوں نے باضابطہ شکایت درج کرانے کا فیصلہ کیا تاکہ انصاف حاصل کیا جا سکے۔
پولیس کارروائی اور تفتیش | Workplace Harassment
جوبلی ہلز پولیس نے تصدیق کی کہ ملزم کے خلاف Sexual Harassment of Women at Workplace (Prevention, Prohibition and Redressal) Act کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے، جبکہ دیگر متعلقہ دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔ مزید یہ کہ شواہد اکٹھا کیے جا رہے ہیں اور تمام پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے۔
آخر میں، پولیس نے کہا کہ کام کی جگہ پر ہراسانی جیسے معاملات میں زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کی جائے گی۔ نتیجتاً، متاثرین کی شکایات پر فوری اور قانونی کارروائی کو یقینی بنایا جائے گا۔
