حیدرآباد: وقارآباد قتل کیس میں پولیس نے ایک نوجوان خاتون کو اپنے ہی والدین کو زہریلے انجکشن دے کر قتل کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ یہ واقعہ بنتاورام منڈل کے یاچرم گاؤں میں پیش آیا، جہاں ابتدا میں میاں بیوی کی موت کو مالی دباؤ کے باعث خودکشی سمجھا جا رہا تھا۔ تاہم بعد کی تفتیش نے معاملے کی سنگین حقیقت کو بے نقاب کر دیا۔
پولیس کے مطابق مقتولین دشرَتھ اور لکشمی کی سب سے چھوٹی بیٹی سُریکھا اس واردات میں ملوث پائی گئی۔ وہ سنگاریڈی کے ایک نجی اسپتال میں نرس کے طور پر خدمات انجام دے رہی تھی۔ اسی دوران وہ ایک رشتے میں تھی، جس کی اس کے والدین مخالفت کر رہے تھے، جبکہ بعد میں اس کی شادی کسی اور شخص سے طے کر دی گئی۔
خاندانی مخالفت اور قتل کی منصوبہ بندی | Family Crime
تفتیش کاروں کے مطابق اتوار کے روز سُریکھا نے گھٹنوں کے درد کے علاج کا بہانہ بنا کر پہلے والد اور پھر والدہ کو الگ الگ انجکشن دیے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان انجکشنز میں زہریلا مادہ شامل تھا۔ انجکشن لگنے کے بعد دونوں کی موقع پر ہی موت واقع ہو گئی۔
واقعے کے بعد سُریکھا نے والدین کی لاشوں کو ایک جگہ رکھا اور اپنے بھائی اشوک کو فون کر کے بتایا کہ والدین اچانک بے ہوش ہو گئے ہیں۔ تاہم حالات مشتبہ لگنے پر اشوک نے پولیس کو اطلاع دی، جس کے بعد کیس نے نیا رخ اختیار کر لیا۔
اعترافِ جرم اور پولیس کارروائی | Family Crime
پولیس کی جانب سے کی گئی تفصیلی پوچھ گچھ کے دوران سُریکھا نے مبینہ طور پر جرم کا اعتراف کر لیا۔ افسران کا کہنا ہے کہ شواہد اور بیانات کی بنیاد پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور ملزمہ کو عدالتی تحویل میں بھیجنے کی کارروائی جاری ہے۔
پولیس کے مطابق اس واقعے نے علاقے میں سنسنی پھیلا دی ہے، جبکہ مزید پہلوؤں کی جانچ کی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تفتیش مکمل ہونے کے بعد مکمل چارج شیٹ عدالت میں پیش کی جائے گی۔
