حیدرآباد: تلنگانہ کے وزیر برائے آئی ٹی و صنعت دُڈیلا سریدھر بابو نے منگل کے روز ان الزامات کو مسترد کر دیا کہ ریاست کے سینئر وزرا کی حالیہ میٹنگ خفیہ طور پر منعقد کی گئی تھی۔ انہوں نے ایسی خبروں کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ لہٰذا، ان افواہوں میں کوئی حقیقت نہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ یہ اجلاس نائب وزیر اعلیٰ ملّو بھٹّی وکرامارکّا کی رہائش گاہ پر منعقد ہوا، جو ایک معمول کی رابطہ کاری میٹنگ تھی۔ اس میٹنگ میں انتظامی امور اور آئندہ بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ چنانچہ، اسے خفیہ قرار دینا بے بنیاد ہے۔
عوامی نقل و حرکت کی وضاحت | Cabinet Coordination
سریدھر بابو کے مطابق، کابینہ اجتماعی طور پر کام کرتی ہے اور حکمرانی سے متعلق امور پر وزرا کے درمیان ہم آہنگی ایک آئینی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مؤثر نظم و نسق کے لیے اس طرح کی میٹنگز ناگزیر ہوتی ہیں، اسی لیے انہیں غیر معمولی انداز میں پیش کرنا درست نہیں۔
انہوں نے نام نہاد خفیہ میٹنگ کے بیانیے کو مزید رد کرتے ہوئے کہا کہ تمام وزرا لوک بھون میں ‘ایٹ ہوم’ پروگرام کے بعد ایک ہی گاڑی میں، عوامی نظروں کے سامنے روانہ ہوئے تھے۔ اس طرح، ملاقات میں کسی قسم کی پوشیدگی نہیں تھی اور ہر چیز شفاف انداز میں ہوئی۔
میڈیا اور جمہوری ذمہ داری | Cabinet Coordination
سریدھر بابو نے سوشل میڈیا اور بعض ذرائع ابلاغ پر گردش کرنے والے غلط بیانیے پر تشویش ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوری نظام میں آئینی عہدیداروں کے درمیان جائز داخلی مشاورت کو مسخ کرنا یا اسے غیر ضروری سیاسی رنگ دینا مناسب نہیں۔ مزید یہ کہ بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں پر گفتگو سیاسی منصوبہ بندی کا معمول کا حصہ ہے۔
آخر میں، انہوں نے تعمیری تنقید کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ قیاس آرائی پر مبنی رپورٹنگ اور ذاتی حملے جمہوری مکالمے کے معیار کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ لہٰذا، انہوں نے میڈیا سے ذمہ دارانہ رویہ اپنانے اور ریاستی ترقی کے عمل میں مثبت کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔
