حیدرآباد: حیدرآباد ڈسٹرکٹ کانگریس کمیٹی کی جانب سے ہفتے کے روز منریگا بچاؤ سنگرام یاترا کا آغاز کیا گیا۔ یہ تین روزہ احتجاجی مارچ مرکزی حکومت کی جانب سے مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ میں مجوزہ تبدیلیوں کے خلاف نکالا گیا ہے۔ یاترا کا آغاز چارمینار سے ہوا، جو شہر کے مختلف علاقوں سے گزرتی ہوئی 26 جنوری کو اختتام پذیر ہوگی۔
اس احتجاجی مارچ کی قیادت حیدرآباد ڈی سی سی صدر سید خالد سیف اللہ کر رہے ہیں۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ یہ یاترا دیہی روزگار کے حق کے دفاع کے لیے پارٹی کی قومی مہم کا حصہ ہے اور اس کا مقصد منریگا کو کمزور کرنے کی کوششوں کے خلاف آواز بلند کرنا ہے۔
پانچ اسمبلی حلقوں سے گزرنے والی یاترا | MGNREGA Protest
منریگا بچاؤ سنگرام یاترا شہر کے پانچ اسمبلی حلقوں چارمینار، یاقوت پورہ، بہادر پورہ، چندرائن گٹہ اور ملک پیٹ سے گزرے گی۔ اس دوران مختلف مقامات پر عوامی اجتماعات منعقد کیے جا رہے ہیں، جہاں مرکزی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کی جا رہی ہے۔
یاترا میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سکریٹری سچن ساونت اور سابق صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی وی ہنمنت راؤ نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ ان کے ساتھ مقامی کانگریس قائدین اور کارکنوں کی بڑی تعداد بھی موجود رہی۔

ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ہنمنت راؤ نے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت منریگا کے تحت دیے گئے قانونی حقِ روزگار کو کمزور کر رہی ہے۔ ان کے مطابق اس اسکیم نے دیہی خاندانوں کو آئینی تحفظ فراہم کیا تھا، مگر اب اسے سرکاری احسان بنا کر پیش کیا جا رہا ہے، جو جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔
سچن ساونت نے کہا کہ نئی پالیسیوں کے باعث مزدوروں کو مستقل اجرت اور روزگار کا تحفظ حاصل نہیں رہا۔ ان کے مطابق منریگا کے ذریعے پہلے کم از کم اجرت اور سال بھر کام کی ضمانت تھی، جو اب محدود اور غیر یقینی بنا دی گئی ہے۔
منریگا میں تبدیلیوں پر سخت تنقید | MGNREGA Protest
ڈی سی سی صدر سید خالد سیف اللہ نے الزام لگایا کہ گرام پنچایتوں کے اختیارات کم کر کے کنٹریکٹ نظام کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اس سے مقامی خود اختیاری متاثر ہو رہی ہے اور مزدور بے اختیار بنتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اجرت کے 40 فیصد اخراجات ریاستوں پر ڈالنے کا فیصلہ اسکیم کے نفاذ کو کمزور کر دے گا، جس کا سب سے زیادہ نقصان خواتین اور درج فہرست ذاتوں و قبائل کو ہوگا۔
کانگریس قائدین نے منریگا کے حق میں قرارداد بھی منظور کی اور بتایا کہ اس اسکیم کے تحت 180 کروڑ سے زائد یومیہ روزگار پیدا ہوا اور تقریباً 10 کروڑ عوامی اثاثے وجود میں آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ کورونا وبا کے دوران یہی اسکیم دیہی معیشت کے لیے سہارا بنی، اس لیے اسے ختم یا کمزور ہونے نہیں دیا جائے گا۔
احتجاج میں پارٹی کارکنوں کے ساتھ عام شہریوں نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور مرکزی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔
