حیدرآباد: تلنگانہ حکومت نے عوامی مخالفت کے بعد ٹی ہب میں سرکاری دفاتر منتقل کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا ہے۔ سوشل میڈیا اور بڑے اخبارات میں شدید تنقید کے بعد یہ معاملہ زور پکڑ گیا تھا۔ اس پیش رفت سے اسٹارٹ اپ بانیوں اور عام شہریوں میں پائی جانے والی تشویش کم ہوئی ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق کرائے کی عمارتوں میں کام کرنے والے دفاتر کو ٹی ہب منتقل کرنے کی تجویز سامنے آئی تھی۔ اس پر اسٹارٹ اپ حلقوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس اقدام سے اختراعی ماحول متاثر ہوگا۔ عوامی ردعمل کے بڑھنے کے ساتھ ہی حکومت پر دباؤ میں اضافہ ہوا۔
ٹی ہب کا اصل مقصد برقرار | T-Hub Decision
اسی دوران وزیراعلیٰ ریونت ریڈی نے، جو اس وقت امریکہ کے دورے پر ہیں، معاملے میں مداخلت کی۔ انہوں نے چیف سیکریٹری رام کرشنا راؤ سے بات کر کے واضح ہدایات جاری کیں۔ وزیراعلیٰ نے افسران کو ٹی ہب کو سرکاری دفاتر کے لیے استعمال نہ کرنے کا حکم دیا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ٹی ہب صرف اسٹارٹ اپ انکیوبیٹر کے طور پر ہی کام کرے۔ ان کے مطابق اس مرکز کو اختراع اور نئی صنعتوں کے فروغ پر مکمل توجہ دینی چاہیے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سرکاری محکموں کی منتقلی سے ٹی ہب کے عالمی تشخص کو نقصان پہنچ سکتا تھا۔
اسٹارٹ اپس کے لیے حکومتی عزم | T-Hub Decision
وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ نوجوان کاروباریوں کو کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔ اسی لیے پورے کیمپس کو اسٹارٹ اپ سرگرمیوں کے لیے مخصوص رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق اس فیصلے سے اختراعی نظام مضبوط ہوگا۔
دوسری جانب، ریاستی حکومت نے 1,000 کروڑ روپئے کے اسٹارٹ اپ فنڈ کا اعلان بھی کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد تلنگانہ کے اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کو مزید تقویت دینا ہے۔ حکومت نے 2034 تک حیدرآباد سے کم از کم 100 یونیکورن کمپنیوں کو فروغ دینے کا ہدف بھی مقرر کیا ہے، جو اختراع پر مبنی ترقی کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
టీ హబ్ ను స్టార్టప్ కేంద్రంగా కొనసాగించాలని ముఖ్యమంత్రి ఎ.రేవంత్ రెడ్డి అధికారులను ఆదేశించారు. అద్దె భవనాల్లో ఉన్న ప్రభుత్వ ఆఫీసులను టీ హబ్కు మారుస్తున్నట్లు వస్తున్న వార్తలపై సీఎం వెంటనే స్పందించారు. అమెరికా పర్యటనలో ఉన్న సీఎం ప్రభుత్వ ప్రధాన కార్యదర్శి రామకృష్ణారావుకు ఫోన్… pic.twitter.com/pzOyVMTA2L
— Congress for Telangana (@Congress4TS) January 24, 2026
