حیدرآباد: سنگاریڈی ضلع کے کوللور میں واقع گڈیام اسکول میں ساؤتھ انڈیا سائنس فیئر 2026 جمعہ کے روز اختتام پذیر ہو گیا، جہاں طلبہ نے سائنسی ماڈلز اور اختراعی منصوبوں کی وسیع نمائش پیش کی۔ اس پروگرام میں جنوبی ہند کے مختلف علاقوں سے طلبہ نے شرکت کی۔
اختتامی تقریب کے دوران وزیر طب و صحت دامودر راجا نرسمہا نے طلبہ سے بات چیت کی اور ان کے منصوبوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں کو سراہا اور کلاس روم سے باہر بھی سائنسی سوچ کو فروغ دینے کی تلقین کی۔
انہوں نے کہا کہ زبان پر عبور، تخلیقی سوچ اور عملی مہارتیں مستقبل میں طلبہ کو سخت مسابقتی ماحول میں کامیابی دلانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔
تعلیم اور مہارتوں پر زور | Science Fair
دامودر راجا نرسمہا نے کہا کہ تلنگانہ حکومت معیاری تعلیم اور بہتر صحت خدمات کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ توجہ ابتدائی تعلیم سے لے کر ہر حلقے میں 200 کروڑ روپئے کی لاگت سے قائم کیے جانے والے انٹیگریٹڈ اسکولوں تک پھیلی ہوئی ہے۔
انہوں نے ضلع سطح پر صحت کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے اقدامات کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق نرسنگ کالجوں میں توسیع کی جا رہی ہے اور طلبہ کے لیے جاپانی اور جرمن زبانوں کی تربیت متعارف کروائی جا رہی ہے، تاکہ عالمی سطح پر مواقع حاصل کیے جا سکیں۔
انعامات اور حوصلہ افزائی | Science Fair
تقریب کے اختتام پر نمایاں اختراعات پیش کرنے والے طلبہ میں نقد انعامات، شیلڈز اور اسناد تقسیم کی گئیں۔ منتظمین کے مطابق اس اقدام کا مقصد تحقیق پر مبنی سیکھنے کے رجحان کو فروغ دینا ہے۔
حکام نے کہا کہ سائنس فیئر کا بنیادی مقصد کم عمر طلبہ میں سائنسی تجسس اور عملی تعلیم کو فروغ دینا تھا۔ پروگرام میں اساتذہ، والدین اور مقامی عہدیداروں کی بھرپور شرکت دیکھنے میں آئی، جس سے اس تقریب کی کامیابی واضح ہوئی۔
