حیدرآباد: تلنگانہ ڈرگس کنٹرول ایڈمنسٹریشن اور عادل آباد پولیس نے مشترکہ کارروائی کے دوران غیرقانونی طور پر ذخیرہ کی گئی آکسیٹوسن انجکشن کی 109 بغیر لیبل والی بوتلیں ضبط کر لی ہیں۔ یہ کارروائی 22 جنوری کو انجام دی گئی۔
حکام کے مطابق یہ ذخیرہ عادل آباد کے رہائشی موتھو اروند کمار کے قبضے سے برآمد ہوا۔ ابتدائی جانچ میں سامنے آیا ہے کہ یہ ہارمون دودھ دینے والے مویشیوں میں غیرمجاز استعمال اور فروخت کے لیے رکھا گیا تھا۔
محکمہ ڈرگس کنٹرول ایڈمنسٹریشن نے واضح کیا کہ آکسیٹوسن کا اس طرح استعمال جانوروں کی صحت کے لیے سنگین نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی وجہ سے اس پر سخت قانونی پابندیاں عائد ہیں۔
غیرقانونی ہارمون استعمال پر انتباہ | Oxytocin Seizure
کارروائی کی قیادت ڈرگس انسپکٹر اے سری لتا اور پولیس افسر کے ناگ راجو نے کی۔ ان کی ٹیم نے 200 ملی لیٹر کی 109 شفاف پی ای ٹی بوتلیں ضبط کیں، جن میں مبینہ طور پر آکسیٹوسن موجود تھا۔
حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں مکمل تفتیش جاری ہے اور تمام ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ محکمہ نے دہرایا کہ بغیر اجازت آکسیٹوسن کا ذخیرہ یا فروخت ایک فوجداری جرم ہے۔
قانونی کارروائی اور عوامی اپیل | Oxytocin Seizure
ڈی سی اے کے مطابق ڈرگس اینڈ کاسمیٹکس ایکٹ کے تحت ایسے جرائم پر پانچ سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ محکمہ نے مویشیوں میں ہارمون کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے سخت نگرانی کا عندیہ بھی دیا ہے۔
عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ اگر کہیں غیرقانونی ادویات، نشہ آور یا نفسیاتی اثرات رکھنے والے مادوں کی تیاری، فروخت یا غلط استعمال کی اطلاع ہو تو فوری طور پر شکایت درج کرائیں۔ شکایات تلنگانہ ڈی سی اے کے ٹول فری نمبر 1800-599-6969 پر دفتری اوقات میں 10:30 صبح سے 5:00 شام تک کی جا سکتی ہیں۔
