حیدرآباد: بھارت راشٹرا سمیتی کے کارگزار صدر کے تارک راما راؤ نے فون ٹیپنگ معاملے میں پارٹی کے سینئر رہنما ہریش راؤ کو جاری ایس آئی ٹی نوٹس کو کانگریس حکومت کی جانب سے کھلا سیاسی انتقام قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام سیاسی محاذ پر مقابلہ نہ کر پانے کی ناکامی کا ثبوت ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کے ٹی راما راؤ نے الزام عائد کیا کہ حکمراں جماعت جھوٹے مقدمات اور نوٹسز کے ذریعے سیاسی دباؤ ڈال رہی ہے۔ ان کے مطابق تلنگانہ میں سیاسی ہراسانی کانگریس حکومت کا واحد ایجنڈا بن چکا ہے، جبکہ فون ٹیپنگ معاملے میں ابتدا سے ہی کوئی مضبوط بنیاد موجود نہیں رہی۔
سپریم کورٹ کے مشاہدات کا حوالہ | Political Vendetta
کے ٹی راما راؤ نے یاد دلایا کہ سپریم کورٹ آف انڈیا پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ فون ٹیپنگ معاملے میں کوئی وزن نہیں ہے۔ ان کے مطابق عدالت کے ریمارکس کے بعد یہ معاملہ عملاً ختم ہو چکا تھا، اس کے باوجود ہریش راؤ کو دوبارہ نوٹس جاری کرنے کی منطق سمجھ سے بالاتر ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ تازہ کارروائی کا مقصد وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کے ایک قریبی رشتہ دار سے جڑے کوئلہ بلاک الاٹمنٹ کے الزامات سے عوام کی توجہ ہٹانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہریش راؤ وہ رہنما ہیں جو تلنگانہ تحریک سے لے کر آج تک عوام کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔
حکومت پر دباؤ بڑھنے کا دعویٰ | Political Vendetta
حالیہ سیاسی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ ہریش راؤ مسلسل کانگریس حکومت کی ناکامیوں کو بے نقاب کر رہے ہیں۔ ان کے بقول اسمبلی اور نچلی سطح پر کی گئی سخت سوالات نے وزیر اعلیٰ کو بے چین کر دیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ بھارت راشٹرا سمیتی قانون اور عدلیہ کا احترام کرتی ہے اور کسی بھی جانچ کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ نوٹسز اور تحقیقات کے ذریعے اپوزیشن کو خاموش کرانے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی اور پارٹی ہر مرحلے پر حکومت کی کوتاہیوں کو عوام کے سامنے لاتی رہے گی۔
