حیدرآباد: تلنگانہ کے وزیر محنت گڈم وویک وینکٹاسوامی نے پیر کے روز سابق بی آر ایس حکومت پر الزام عائد کیا کہ اس نے خواتین کے خود امدادی گروپس کو دیے جانے والے بلاسود قرضے بند کر دیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کووڈ بحران کے دوران بھی فنڈز جاری نہیں کیے گئے، جس سے خواتین شدید مالی دباؤ کا شکار ہوئیں۔
چننور کے دورے کے دوران وزیر محنت نے 47.11 کروڑ روپئے کے ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی سنٹر کے لیے بھومی پوجا ادا کی۔ اسی تقریب میں خواتین خود امدادی گروپس کو 9 کروڑ روپئے کے چیکس بھی تقسیم کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مرکز مقامی نوجوانوں کو تربیت دے کر روزگار کے مواقع فراہم کرے گا۔
چننور میں ترقی کو نئی رفتار | Women Loans
وزیر محنت نے سابق حکومت پر سڑکوں اور نکاسیٔ آب جیسی بنیادی سہولیات کو نظر انداز کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے خود حلقے کا پیدل دورہ کر کے عوامی مسائل کو براہِ راست سمجھا۔ عہدہ سنبھالنے کے بعد ریت، چاول اور اراضی مافیا کے خلاف مؤثر کارروائی کی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اب تک 76 لاکھ روپئے کے بلاسود قرضے مقامی خواتین گروپس کو فراہم کیے جا چکے ہیں، جبکہ 40 کروڑ روپئے کے ترقیاتی کام جاری ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے آر ٹی سی ڈپو، حیدرآباد کے لیے براہِ راست بس سروس، خواتین کے لیے پٹرول پمپ، 100 بستروں کا اسپتال اور سومن پلی میں 250 کروڑ روپئے کے مربوط اسکول کے قیام کا بھی اعلان کیا۔
سابق حکومت پر قرض بوجھ کا الزام | Women Loans
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ضلع انچارج وزیر جوپلی کرشنا راؤ نے سابق وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ پر 8 لاکھ کروڑ روپئے کے قرض بوجھ کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے تحت ریاست میں ترقی کا نیا دور شروع ہوا ہے اور پارٹی کارکنوں سے اپیل کی کہ آئندہ بلدیاتی انتخابات میں کامیابی کو یقینی بنائیں۔
