حیدرآباد: مرکزی حکومت نے تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے درمیان برسوں سے جاری آبی تنازع کو حل کرنے کے لیے اعلیٰ سطحی ماہر کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ ریاستوں کی تقسیم کے بعد ایک دہائی سے زائد عرصے سے یہ مسئلہ مختلف سطحوں پر زیر بحث رہا، تاہم تاحال کوئی حتمی حل سامنے نہیں آ سکا۔
یہ تنازع اس وجہ سے طول پکڑتا رہا کہ دونوں ریاستوں کے درمیان مکمل آبی شیئر کو حتمی شکل نہیں دی جا سکی۔ اس دوران دونوں جانب سے ایک دوسرے پر آبپاشی منصوبوں میں قواعد کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے جاتے رہے۔ وزرائے اعلیٰ، وزراء اور اعلیٰ حکام نے کئی مرتبہ اس معاملے کو مرکز کے سامنے اٹھایا، لیکن پیش رفت نہ ہونے پر آخرکار مرکزی حکومت نے براہ راست مداخلت کا فیصلہ کیا۔
مرکزی حکومت نے اسی ماہ کی 2 تاریخ کو احکامات جاری کرتے ہوئے 15 رکنی ماہر کمیٹی قائم کی۔ یہ کمیٹی جل شکتی وزارت کے تحت مرکزی آبی کمیشن میں کام کرے گی، جس کی صدارت مرکزی آبی کمیشن کے چیئرمین اتل جین کریں گے۔
پہلی میٹنگ کا ایجنڈا | Water Dispute
کمیٹی میں تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے سینئر افسران کے علاوہ مرکزی اداروں کے نمائندے بھی شامل ہیں۔ تلنگانہ کی جانب سے ریٹائرڈ آئی اے ایس افسر اور سرکاری مشیر آدتیہ ناتھ داس، آبپاشی کے پرنسپل سیکریٹری راہول بوجا، اسپیشل سیکریٹری پرشانت جیون پاٹل اور انجینئر ان چیف امجد حسین شامل ہیں۔ آندھرا پردیش نے واٹر ریسورسز کے اسپیشل چیف سیکریٹری سائی پرساد، سرکاری مشیر وینکٹیشور راؤ، انجینئر ان چیف نرسمہا مورتی اور بین ریاستی آبی وسائل ونگ کے چیف انجینئر کو نامزد کیا ہے۔
اس کے علاوہ کرشنا ریور مینجمنٹ بورڈ اور گوداوری ریور مینجمنٹ بورڈ کے چیئرمین بھی کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔ نیشنل واٹر ڈیولپمنٹ ایجنسی اور مرکزی آبی کمیشن کے پروجیکٹ اپریزل آرگنائزیشن کے چیف انجینئرز کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ پروجیکٹ اپریزل آرگنائزیشن کے چیف انجینئر راکیش کمار رکن سیکریٹری کے طور پر خدمات انجام دیں گے۔
ڈیٹا پر مبنی گفت و شنید | Water Dispute
کمیٹی کا بنیادی مقصد شواہد اور تکنیکی اعداد و شمار کی بنیاد پر مسئلے کا حل تلاش کرنا ہے۔ دونوں ریاستوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے اعتراضات، ریکارڈز اور تکنیکی تفصیلات پیش کریں۔ کرشنا اور گوداوری ریور مینجمنٹ بورڈز پانی کے استعمال سے متعلق ڈیٹا فراہم کریں گے، جس کے بعد منصوبوں کے آپریشن اور پانی کی تقسیم کے طریقہ کار کا جائزہ لیا جائے گا۔
کمیٹی کی پہلی میٹنگ 30 تاریخ کو نئی دہلی میں مرکزی آبی کمیشن کے دفتر، سیوا بھون میں منعقد ہوگی۔ تمام اراکین کو ذاتی طور پر شرکت کی ہدایت دی گئی ہے۔ تلنگانہ کے حکام اس موقع پر پولاورم نالامالا ساگر منصوبے پر اپنے اعتراضات بھی اٹھائیں گے، جس کے بارے میں ریاست کا کہنا ہے کہ اس سے سنگین نقصانات کا خدشہ ہے۔ اس کے علاوہ کرشنا دریا کے پانی کی تقسیم بھی بات چیت کا اہم حصہ ہوگی۔
