حیدرآباد: تلنگانہ کی سیاست میں ایک غیر معمولی پیش رفت کے طور پر ریاستی کابینہ کا آئندہ اجلاس حیدرآباد کے سیکریٹریٹ کے بجائے میدارم میں منعقد کیا جائے گا۔ یہ اجلاس اتوار 18 جنوری کو شام 5 بجے ملگ ضلع کے میدارم میں واقع ہریتا ہوٹل میں ہوگا۔
چیف سیکریٹری کے رام کرشن راؤ نے باضابطہ احکامات جاری کرتے ہوئے اجلاس کے مقام اور وقت کی تصدیق کی ہے۔ اس فیصلے کو ریاست میں غیر مرکزیت پر مبنی طرزِ حکمرانی کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
قبائلی میلہ اور ترقیاتی ایجنڈا | Cabinet Meeting
اس خصوصی کابینہ اجلاس میں سمکّا سرالما جاترا کی تیاریوں پر تفصیلی غور کیا جائے گا، جو ایشیا کا سب سے بڑا قبائلی میلہ مانا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ قبائلی ترقیاتی منصوبے، بجٹ سے متعلق امور، بلدیاتی انتخابات اور کسانوں کی فلاحی اسکیمیں بھی ایجنڈے میں شامل ہیں۔
حکام کے مطابق یہ اجلاس ریاستی حکومت کی ترجیحات کو زمینی سطح تک لے جانے کی کوشش کا حصہ ہے، تاکہ قبائلی علاقوں کے مسائل اور ضروریات پر براہِ راست توجہ دی جا سکے۔
انتظامات اور حکومتی پیغام | Cabinet Meeting
وزیر اعلیٰ کے دفتر نے نائب وزیر اعلیٰ ملّو بھٹی وکرامارکا، وزراء اور سینئر مشیروں کو اجلاس کی اطلاع دے دی ہے۔ حکومت نے ملگ ضلع کے کلکٹر اور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کو اجلاس کے انتظامات کی ذمہ داری سونپی ہے۔
ریونت ریڈی کی قیادت والی حکومت کا میدارم میں اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ قبائلی امور پر خصوصی توجہ اور شمولیتی حکمرانی کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس اقدام سے ریاستی حکومت کا پیغام واضح ہے کہ پالیسی سازی صرف دارالحکومت تک محدود نہیں رہے گی۔
