حیدرآباد: حیدرآباد میٹرو ریل کے معاملے پر مرکز اور ریاست کے درمیان بیان بازی تیز ہو گئی ہیں۔ مرکزی وزیر جی کشن ریڈی نے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی کو ایک کھلا خط لکھ کر زور دیا ہے کہ ریاستی حکومت فوری طور پر میٹرو فیز ون کے ٹیک اوور کا عمل مکمل کرے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ ریاستی حکومت نے حیدرآباد میٹرو فیز ٹو کی منظوری کے لیے مرکز سے رجوع کیا ہے، تاہم مرکز اس وقت تک آگے نہیں بڑھے گا جب تک فیز ون سے متعلق تمام مالی اور انتظامی معاملات طے نہیں ہو جاتے۔
مرکزی وزیر نے یاد دلایا کہ فیز ون کے ٹیک اوور کے لیے مرکز اور ریاست کے درمیان ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دینے پر اتفاق ہوا تھا۔ اس کمیٹی میں دونوں حکومتوں کے دو، دو افسران شامل ہونے تھے، لیکن اب تک ریاست کی جانب سے نام ارسال نہیں کیے گئے، جس کے باعث عمل تاخیر کا شکار ہے۔
فیز ون ٹیک اوور میں تاخیر | Metro Takeover
جی کشن ریڈی کے مطابق انہوں نے شہری ترقی کے مرکزی وزیر منوہر لال کھٹّر سے اس منصوبے پر بات چیت کی، جنہوں نے بتایا کہ فیز ٹو کے لیے اصولی منظوری پہلے ہی دی جا چکی ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ عملی پیش رفت اسی وقت ممکن ہوگی جب ریاستی حکومت فیز ون کے تمام معاملات مکمل کرے گی۔
مرکزی وزیر نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مرکز اس منصوبے کی مکمل حمایت کرتا ہے، لیکن ریاست کو بھی اپنی ذمہ داریاں بروقت پوری کرنا ہوں گی۔ ان کے مطابق تاخیر کی وجہ سے نہ صرف منصوبہ متاثر ہو رہا ہے بلکہ شہری ٹرانسپورٹ کے مستقبل پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
فیز ٹو کی راہ ہموار کرنے کی اپیل | Metro Takeover
خط کے اختتام پر مرکزی وزیر نے وزیر اعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر مشترکہ کمیٹی کے لیے ریاستی افسران کے نام ارسال کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے ایل اینڈ ٹی میٹرو ریل سے ٹیک اوور کے تمام انتظامات جلد مکمل کرنے اور فیز ٹو کی تعمیر سے متعلق تجاویز بلا تاخیر مرکز کو بھیجنے پر زور دیا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ خط واضح اشارہ ہے کہ حیدرآباد میٹرو کے اگلے مرحلے کا انحصار مکمل طور پر فیز ون کے فیصلے پر ہے، اور آنے والے دنوں میں اس معاملے پر ریاستی حکومت کے اقدامات نہایت اہم ہوں گے۔
