حیدرآباد: شہر کے پولیس کمشنر وی سی سجنار نے بدھ کے روز کہا کہ ایک خاتون سرکاری افسر کے خلاف ہتک آمیز الزامات اور وزیر اعلیٰ سے متعلق توہین آمیز خبریں نشر کرنے پر متعدد ٹی وی صحافیوں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بغیر کسی ثبوت کے لگائے گئے الزامات ناقابل قبول ہیں۔ پولیس نے وضاحت کی کہ کئی نمایاں چینلوں کے صحافیوں کو صرف تفتیش کے لیے حراست میں لیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ان رپورٹس میں پیش کیے گئے دعوے بے بنیاد تھے اور ان کے حق میں کوئی شواہد فراہم نہیں کیے گئے۔ کمشنر کے مطابق خاص طور پر خواتین افسران کو نشانہ بنانا ایک قسم کا ظلم ہے، جو نہ صرف متعلقہ فرد بلکہ اس کے اہل خانہ کے لیے بھی ذہنی دباؤ کا سبب بنتا ہے۔
خواتین افسران اور ہتک آمیز رویہ | Defamatory Reports
کمشنر نے کہا کہ خواتین آج ہر شعبے میں آگے بڑھ رہی ہیں، اس لیے ان کے خلاف غیر منصفانہ تنقید پورے معاشرے کو متاثر کرتی ہے۔ انہوں نے اس موضوع پر گفتگو کو جذباتی طور پر تکلیف دہ قرار دیتے ہوئے ایسے بیانات کی سخت مذمت کی۔ ایک ثقافتی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماں تخلیق کی بنیاد ہے اور ماں پر تنقید دراصل تخلیق پر تنقید کے مترادف ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسے الفاظ اور الزامات معاشرتی اقدار کے خلاف ہیں اور انہیں کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ پولیس اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کارروائی کر رہی ہے۔
قانونی عمل اور وارننگ | Defamatory Reports
کمشنر نے واضح کیا کہ پولیس نے تمام اقدامات قانونی طریقہ کار کے تحت انجام دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی دروازے کو توڑا نہیں گیا اور ہر قدم قانون کے مطابق اٹھایا گیا۔ انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ اس معاملے سے جڑے بعض افراد ملک چھوڑنے کی کوشش کر رہے تھے اور آدھی رات کو بیرون ملک روانگی کی باتیں سامنے آئیں۔
آخر میں انہوں نے تمام میڈیا اہلکاروں سے تفتیش میں تعاون کی اپیل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ تعاون نہ کرنے کی صورت میں پولیس کو حراست میں لینے کا اختیار استعمال کرنا پڑے گا۔ اس بیان کے بعد ریاست میں میڈیا ذمہ داری اور قانونی حدود پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
