حیدرآباد: اُردو صحافت کا ایک اور معتبر ستارہ غروب ہو گیا۔ سینئر اور معروف صحافی ایم اے رحیم طویل علالت کے بعد آج انتقال کر گئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ ان کے انتقال کی خبر سنتے ہی صحافتی حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی۔
مرحوم ایک طویل عرصے تک صحافت کے میدان سے وابستہ رہے اور اپنی اصول پسندی، متوازن رپورٹنگ اور ذمہ دارانہ طرزِ اظہار کے باعث ایک معتبر آواز کے طور پر پہچانے جاتے تھے۔ ان کی وفات کو صحافتی برادری ایک ناقابلِ تلافی نقصان قرار دے رہی ہے۔
صحافتی خدمات اور وراثت | Urdu Journalism
ایم اے رحیم نے اپنی عملی زندگی میں اُردو صحافت کو وقار اور اعتماد بخشنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی تحریروں اور پیشہ ورانہ رویّے نے نئی نسل کے صحافیوں کے لیے رہنمائی فراہم کی۔ ان کا شمار اُن سینئر صحافیوں میں ہوتا تھا جنہوں نے مشکل حالات میں بھی صحافتی اقدار کا دامن نہیں چھوڑا۔
اہلِ صحافت کے مطابق مرحوم کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کے انتقال سے پیدا ہونے والا خلا برسوں تک پُر نہیں ہو سکے گا، کیونکہ وہ صرف ایک صحافی نہیں بلکہ ایک عہد کا نام تھے۔
نمازِ جنازہ کی تفصیل | Urdu Journalism
مرحوم کی نمازِ جنازہ چہارشنبہ 7 جنوری 2026 بعد نمازِ ظہر، دوپہر 1 بجکر 15 منٹ پر جامع مسجد، اے سی گارڈز، مہاویر ہاسپٹل کے قریب ادا کی جائے گی۔ اہلِ خانہ اور قریبی افراد نے دعا کی اپیل کی ہے کہ مرحوم کے درجات بلند ہوں اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا ہو۔آمین۔
