حیدرآباد: تلنگانہ کے وزیر صحت دامودر راجا نرسمہا نے کہا ہے کہ ریاستی حکومت دیہی صحت کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے مربوط اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ توجہ دیہی اسپتالوں کے درمیان خدمات کو جوڑنے پر مرکوز ہے تاکہ علاج کی سہولت ہر سطح پر مؤثر ہو۔
انہوں نے بتایا کہ سب سینٹرز، پرائمری ہیلتھ سینٹرز، کمیونٹی ہیلتھ سینٹرز اور ایریا اسپتالوں کو ایک نیٹ ورک کے تحت جوڑا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ دیہی علاقوں کے سرکاری اسپتال بھی اسی مربوط نظام کا حصہ بنائے جا رہے ہیں۔
قانون ساز کونسل کے اجلاس کے دوران سوالات کے جواب میں وزیر صحت نے اراکین کے خدشات سنے۔ سوالات کا تعلق آر ایم پی اور پی ایم پی پریکٹیشنرز اور دیہی صحت میں ان کے کردار سے تھا۔
آر ایم پی اور پی ایم پی تربیت پر قانونی رکاوٹیں | Healthcare Network
وزیر صحت نے کہا کہ اس معاملے میں عدالت میں قانونی مقدمات زیرِ سماعت ہیں۔ ان کے مطابق انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کی تلنگانہ یونٹ اور ڈاکٹروں نے آر ایم پی اور پی ایم پی کی تربیت کی مخالفت کی، جس کے بعد معاملہ ہائی کورٹ تک پہنچا۔
قانونی رکاوٹوں کے باوجود وزیر نے کہا کہ حکومت حل تلاش کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ کمزور طبقات کے لیے صحت کا تحفظ یقینی بنانا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
غریبوں کے لیے صحت تحفظ اولین ترجیح | Healthcare Network
دامودر راجا نرسمہا نے کہا کہ دیہی علاقوں میں صحت خدمات کو مضبوط بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ طبی تعلیم اور صحت کے وزیر کی حیثیت سے خدمات انجام دینا ان کے لیے اعزاز ہے۔
انہوں نے یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ قانون ساز کونسل کے اراکین کی جانب سے دی گئی تجاویز پر سنجیدگی سے غور کیا جائے گا۔ ان آرا کی روشنی میں مستقبل میں اس مسئلے پر فیصلے کیے جائیں گے تاکہ دیہی عوام کو بہتر اور محفوظ صحت سہولیات میسر آ سکیں۔
