حیدرآباد: وزیرِ رہائش پونگولیٹی سرینواس ریڈی نے کہا ہے کہ حکومت تمام اہل مستحقین کو اندرامّاں مکانات فراہم کر رہی ہے اور ریاست بھر میں اگلے سال مارچ اور اپریل کے دوران ایک نیا مرحلہ منظور کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت فلاحی اسکیموں کو صرف انتخابی وعدوں تک محدود رکھنے کے بجائے عملی طور پر نافذ کر رہی ہے۔
اسمبلی کے سوالات کے وقفے کے دوران جواب دیتے ہوئے وزیر نے کہا کہ سابقہ بی آر ایس حکومت کے دور میں مکانات کی تقسیم انتخابی وابستگی سے جوڑی گئی تھی۔ ان کے مطابق موجودہ حکومت نے اس روایت کو ختم کرتے ہوئے غریب خاندانوں تک مکانات کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اندرامّاں مکانات تمام اہل غریب خاندانوں تک پہنچ رہے ہیں، خواہ ان کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت یا پس منظر سے ہو۔ حکومت کا مقصد ہر مستحق کو باعزت رہائش فراہم کرنا ہے۔
زیر التوا منصوبوں پر پیش رفت | Indiramma Houses
وزیرِ رہائش نے بتایا کہ حکومت نے نامکمل ڈبل بیڈ روم مکانات کی تکمیل کے لیے فنڈز جاری کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ واسالاماری میں، جسے ماضی میں سابق وزیر اعلیٰ کے سی آر نے گود لیا تھا، زیر التوا ڈبل بیڈ روم مکانات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
ان کے مطابق ہر اندرامّاں مکان کے لیے مختص 5 لاکھ روپے کی رقم کو استعمال کرتے ہوئے ادھورے منصوبوں کو دوبارہ شروع کیا گیا۔ ریاست بھر میں تقریباً 12,000 ڈبل بیڈ روم مکانات اب بھی نامکمل ہیں، جن پر کابینہ میں غور کر کے مثبت فیصلہ لیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بڑے شہری علاقوں میں سرکاری زمین پر بے زمین غریب خاندانوں کے لیے بھی اندرامّاں مکانات تعمیر کیے جائیں گے تاکہ شہری غریبوں کو بھی فائدہ پہنچ سکے۔
قبائلی اور سنگارینی علاقوں پر توجہ | Indiramma Houses
وزیر نے بتایا کہ سنگارینی علاقوں میں جی او 76 کے تحت پٹہ کی تقسیم کا معاملہ ابھی زیر التوا ہے۔ اس پر کابینہ کے اگلے اجلاس میں غور کیا جائے گا۔ اسمبلی اجلاس کے بعد عوامی نمائندوں اور ہاؤسنگ سیکریٹری کے ساتھ ملاقات کر کے ایل-1، ایل-2 اور ایل-3 مسائل حل کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں 12,500 اندرامّاں مکانات منظور کیے گئے ہیں، جن میں چنچو خاندانوں کو پہلے مرحلے میں ہی مکانات فراہم کیے گئے۔ حکومت نے 133 کالونیوں میں 36,000 مکانات کی تکمیل کے لیے 744 کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔
آخر میں وزیرِ رہائش نے الزام عائد کیا کہ سابقہ بی آر ایس حکومت نے ڈبل بیڈ روم مکانات کے معاملے پر عوام کو گمراہ کیا، جبکہ موجودہ حکومت عملی اقدامات کے ذریعے رہائشی مسائل حل کر رہی ہے۔
