حیدرآباد: ہفتہ کے روز تلنگانہ قانون ساز کونسل میں ایک دلچسپ پیش رفت دیکھنے میں آئی، جب چیئرمین گٹّا سکھندر ریڈی نے دیہی صحت کو مضبوط بنانے پر بحث کے دوران کنٹی ویلوگو اسکیم کی تعریف کی۔ ان کے ریمارکس ایوان میں جاری گفتگو کے دوران سامنے آئے۔
یہ بحث اُس وقت شروع ہوئی جب بی آر ایس کے رکن قانون ساز کونسل ٹکیلّاپلی رویندر راؤ نے ایک سوال اٹھایا۔ انہوں نے استفسار کیا کہ آیا حکومت آر ایم پی اور پی ایم پی معالجین کو تربیت اور سرٹیفکیشن دینے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق اس طرح کے اقدامات سے دیہی علاقوں میں طبی خدمات کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
دیہی صحت پر کنٹی ویلوگو کا حوالہ | Rural Healthcare
طبی اور صحت کے وزیر دامودر راجا نرسمہا کے جواب کے دوران چیئرمین نے مداخلت کی۔ انہوں نے سابقہ بی آر ایس حکومت کے دور میں نافذ کی گئی کنٹی ویلوگو اسکیم کو یاد کیا اور اس کے نفاذ کے طریقۂ کار کو سراہا۔
چیئرمین نے کہا کہ اس پروگرام کے تحت ہر گاؤں میں آنکھوں کے معائنے کے کیمپ منعقد کیے گئے تھے۔ ڈاکٹروں نے موقع پر ہی آنکھوں کا معائنہ کیا اور ضرورت مند افراد کو مفت چشمے فراہم کیے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ جن افراد کو خصوصی چشموں کی ضرورت ہوتی تھی، انہیں یہ چشمے براہِ راست گھروں تک پہنچائے گئے۔ اس کے علاوہ جن مریضوں کو آپریشن کی ضرورت تھی، انہیں مخصوص آنکھوں کے اسپتالوں میں ریفر کیا گیا۔
ایوان میں ملا جلا ردعمل | Rural Healthcare
چیئرمین کے مطابق علاج کے لیے سیریل نظام اپنایا گیا تاکہ بروقت سرجری اور بینائی کی بحالی ممکن ہو سکے۔ ان کے ان ریمارکس کو دیہی صحت کے شعبے میں ایک مؤثر مثال کے طور پر پیش کیا گیا۔
تاہم ایوان میں موجود کانگریس اراکین کے لیے چیئرمین کی جانب سے کنٹی ویلوگو کی تعریف کچھ حد تک ناگوار ثابت ہوئی۔ ایوان میں اس تبصرے کے بعد ایک لمحاتی خاموشی اور بے چینی دیکھی گئی۔
