حیدرآباد: تلنگانہ قانون ساز اسمبلی نے جمعہ کے روز دیہی روزگار کی اسکیم کو موجودہ شکل میں برقرار رکھنے کے مطالبے پر متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی۔ وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی نے یہ قرارداد ایوان میں پیش کی، جسے بعد ازاں صوتی رائے شماری کے ذریعے منظور کر لیا گیا۔
اسی کے ساتھ اسمبلی نے وکست بھارت گارنٹی فار روزگار اور آجیویکا مشن (گرامین) قانون کی مخالفت کی۔ ایوان کا موقف تھا کہ یہ قانون دیہی غریبوں کے حقوق کے لیے نقصان دہ ہے اور موجودہ نظام کو کمزور کرتا ہے۔
قرارداد میں کہا گیا کہ نیا قانون غریب خاندانوں اور خواتین مزدوروں کے مفادات کے خلاف ہے۔ مزید یہ کہ روزگار اسکیم کے مالی ڈھانچے میں تبدیلی وفاقی نظام کی روح کے منافی ہے، جو ریاستوں پر اضافی بوجھ ڈالتی ہے۔
ایوان نے یاد دلایا کہ دیہی روزگار کی یہ اسکیم 2005 میں یو پی اے حکومت کے دور میں متعارف کرائی گئی تھی۔ بعد ازاں 2 فروری 2006 کو یہ قانون نافذ ہوا۔ اس کا مقصد غربت، بے روزگاری اور جبری ہجرت میں کمی لانا اور غیر ہنرمند مزدوروں کے استحصال کو روکنا تھا۔
خواتین اور غریب طبقے پر اثرات | Rural Employment
وزیر اعلیٰ نے ایوان کو بتایا کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران تلنگانہ میں اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے والوں میں تقریباً 90 فیصد افراد درج فہرست ذاتوں، درج فہرست قبائل اور پسماندہ طبقات سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 62 فیصد مستفیدین خواتین ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ اسکیم خواتین کے لیے کتنی اہم ہے۔
ان کے مطابق دلت، قبائلی، معذور افراد، آدیواسی، چنچو اور دیگر کمزور طبقات کا روزگار بڑی حد تک اسی اسکیم پر منحصر ہے۔ وزیر اعلیٰ نے خبردار کیا کہ نئے قانون سے دیہی خواتین اور پسماندہ طبقات کے روزگار کے تحفظ کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
فنڈنگ اور قانون سازی پر اعتراضات | Rural Employment
اسمبلی نے اس بات پر بھی اعتراض کیا کہ نئی قانون سازی سے اسکیم کی طلب پر مبنی نوعیت کمزور ہو گئی ہے۔ ایوان کا کہنا تھا کہ کام کی منصوبہ بندی اب طلب کے بجائے محدود فنڈنگ سے مشروط ہو جائے گی، جس سے کام کے دن کم ہوں گے، خاص طور پر خواتین مزدور متاثر ہوں گی۔
قرارداد میں مرکزی حکومت کی جانب سے مکمل فنڈنگ کے بجائے 60:40 مرکز ریاست تناسب پر بھی شدید اعتراض کیا گیا۔ اسمبلی نے مطالبہ کیا کہ پرانا مالیاتی نظام بحال کیا جائے کیونکہ نئی پالیسی وفاقی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔
ایوان نے اسکیم سے مہاتما گاندھی کا نام ہٹانے پر بھی اعتراض کیا۔ قرارداد کے مطابق یہ اقدام گاندھی کے نظریات کی روح کو کمزور کرتا ہے۔ اس کے علاوہ زرعی موسم میں 60 دن کے لازمی وقفے کو بے زمین مزدوروں کے ساتھ ناانصافی قرار دیا گیا۔
آخر میں اسمبلی نے نشاندہی کی کہ موجودہ اسکیم کے تحت 266 اقسام کے کاموں کی اجازت ہے۔ ایوان نے خبردار کیا کہ زمین کی ترقی جیسے محنت طلب کاموں کو ختم کرنے سے چھوٹے کسانوں کے ساتھ ساتھ دلت اور قبائلی طبقات کو بھی نقصان پہنچے گا۔
