حیدرآباد: بھارت راشٹرا سمیتی کے رکن اسمبلی ہریش راؤ نے جمعہ کے روز تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں موسیٰ ندی کی بحالی کے منصوبے پر حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا۔ سوالات کے وقفے کے دوران انہوں نے منصوبے کی لاگت اور مالی وسائل کے حوالے سے وضاحت طلب کی۔
انہوں نے کہا کہ مختلف وزرا کی جانب سے منصوبے کی لاگت کے بارے میں متضاد اعداد و شمار پیش کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق کہیں ایک لاکھ کروڑ روپے اور کہیں 1.5 لاکھ کروڑ روپے کی بات کی جا رہی ہے، جو سنجیدہ منصوبہ بندی پر سوال کھڑا کرتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت موسیٰ ندی کی خوبصورتی کے اصل تخمینے کو ایوان کے ریکارڈ پر رکھے۔
بازآبادکاری اور زمین کے حصول پر تشویش | Musi Project
ہریش راؤ نے بے دخلی کے مسئلے پر بھی سخت سوالات اٹھائے۔ انہوں نے پوچھا کہ منصوبے کے لیے اب تک کتنے مکانات منہدم کیے گئے ہیں اور کیا تمام متاثرہ خاندانوں کو متبادل رہائش فراہم کی گئی ہے۔ ہریش راو نے نجی زمین کے حصول کی تفصیلات بھی طلب کیں۔
انہوں نے اراضی حصول قانون 2013 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کو 14.5 لاکھ روپے معاوضہ اور 200 مربع گز کا رہائشی پلاٹ ملنا چاہیے۔ بی آر ایس رکن اسمبلی نے سوال کیا کہ آیا سابق وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ کے دور میں تعمیر کیے گئے ڈبل بیڈ روم مکانات متاثرین کو الاٹ کیے گئے ہیں یا نہیں۔
پانی کے ذرائع اور سیلابی خدشات | Musi Project
پانی کی فراہمی پر بات کرتے ہوئے ہریش راؤ نے حکومت کے اس دعوے پر وضاحت مانگی کہ موسیٰ ندی میں پانی لایا جائے گا۔ انہوں نے سوال کیا کہ 2.5 ٹی ایم سی گوداوری پانی کہاں سے آئے گا اور آیا یہ ملنا ساگر سے فراہم کیا جائے گا یا کسی اور ذریعے سے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ سابق حکومت کے دور میں موسیٰ میں گندے پانی کے اخراج کو روکنے کے لیے 30 سے زائد سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس قائم کیے گئے تھے، جن میں وقار آباد کے پلانٹس بھی شامل ہیں۔ ان کا الزام تھا کہ ان میں سے کئی اب غیر فعال ہیں۔
حالیہ سیلابی صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے پوچھا کہ کیا حکام کو جڑواں آبی ذخائر میں آنے والے پانی کی درست مقدار کا علم تھا۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ آیا ایک ہی وقت میں گیٹس کھولنے سے موسیٰ کے اطراف کے علاقوں میں سیلاب آیا۔
آخر میں ہریش راؤ نے خبردار کیا کہ بی آر ایس موسیٰ منصوبے کے نام پر غریب خاندانوں کی بے دخلی کی کسی بھی کوشش کی مخالفت کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو انہدامی کارروائیوں کے خلاف موقع پر جا کر احتجاج کیا جائے گا۔
కాంగ్రెస్ ప్రభుత్వం మూసీ సుందరీకరణ ప్రాజెక్ట్ కోసం అసలెంత ఖర్చు చేయాలని చూస్తోంది?
మూసీ పరివాహక ప్రాంతంలో ఇప్పటివరకు ఎన్ని ఇండ్లను కూల్చారు? కూల్చిన ఇండ్లకు 2013 భూ సేకరణ చట్టం ప్రకారం నష్ట పరిహారం చెల్లించారా లేదా?
ఇప్పటివరకు ఎంత ప్రభుత్వ, ప్రైవేట్ భూములను సేకరించారు?
మూసీలోకి… pic.twitter.com/SiDoSQTIYf— BRS Party (@BRSparty) January 2, 2026
