حیدرآباد: تلنگانہ قانون ساز اسمبلی کے اجلاس کے دوسرے دن موسیٰ ندی کی بحالی کا معاملہ ایک بار پھر مرکزِ توجہ بن گیا۔ یہ بحث ایسے وقت سامنے آئی جب بی آر ایس کے اراکین ایوان میں یوریا کی قلت پر بحث کا مطالبہ کر رہے تھے، تاہم اسپیکر نے سوالات کے وقفے کی کارروائی جاری رکھی۔
اسی دوران خیریت آباد سے تعلق رکھنے والے رکن اسمبلی دانم ناگیندر نے موسیٰ ندی کے طویل عرصے سے زیر التوا منصوبے پر ایوان میں اظہار خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں جنوبی کوریا میں ندیوں کی بحالی کے ماڈلز کا مطالعہ کرنے کے لیے ایک ٹیم بھیجی گئی تھی۔
انہوں نے یاد دلایا کہ موسیٰ ندی کی بحالی کے لیے پہلا جامع منصوبہ 2004 میں اس وقت تیار کیا گیا تھا جب ریاست میں وائی ایس راج شیکھر ریڈی وزیر اعلیٰ تھے، لیکن بعد کے برسوں میں یہ منصوبہ سرد خانے کی نذر ہو گیا۔
ان کے مطابق موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد اس منصوبے کو دوبارہ زندہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ آلودہ پانی سے اگائی گئی فصلیں فروخت کے قابل نہیں رہتیں۔
منصوبے کے لیے واضح شیڈول کی ضرورت | Musi Revival
دانم ناگیندر نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی اس منصوبے کو منظم اور مرحلہ وار انداز میں آگے بڑھا رہے ہیں۔ انہوں نے ایوان کو یاد دلایا کہ وزرا پر مشتمل ایک ٹیم حال ہی میں جنوبی کوریا جا کر ندیوں کی بحالی کے تجربات کا مشاہدہ کر چکی ہے۔
تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ منصوبے کی تکمیل کے لیے واضح ٹائم لائن سامنے لائی جانی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سرمایہ کاروں نے تقریباً 500 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی ہے، جس کے لیے شفاف منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر وزیر اعلیٰ کے خلاف سامنے آنے والے بعض بیانات پر تشویش کا اظہار بھی کیا۔ ان کے مطابق کچھ پلیٹ فارمز پر جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے گمراہ کن معلومات پھیلائی جا رہی ہیں۔
عوامی شفافیت اور جلد تکمیل کی اپیل | Musi Revival
رکن اسمبلی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ منصوبے کی واضح ٹائم لائن تیار کر کے عوامی سطح پر جاری کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ شفافیت سے نہ صرف عوام کا اعتماد بڑھے گا بلکہ سرمایہ کاری کے امکانات بھی مضبوط ہوں گے۔
آخر میں انہوں نے اپیل کی کہ موسیٰ ندی کی بحالی کا منصوبہ جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ شہر کے ماحولیاتی اور شہری مسائل کا دیرپا حل ممکن ہو سکے۔
