حیدرآباد: تلنگانہ میں مقامی اداروں کے لیے بی سی ریزرویشن بل کی منظوری میں مسلسل تاخیر پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ تلنگانہ جاگروتی کی صدر کلواکنٹلا کویتا نے کہا ہے کہ حکومت کو مزید تاخیر کے بغیر اس معاملے پر فیصلہ کن قدم اٹھانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بل ایک سال سے زائد عرصے سے صدرِ جمہوریہ کے پاس زیر التوا ہے۔
بدھ کے روز قومی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کویتا نے کہا کہ کانگریس کی قیادت والی ریاستی حکومت اس حساس معاملے پر خاموش نہیں رہ سکتی، خاص طور پر جب بلدیاتی انتخابات کی تیاری جاری ہے۔ ان کے مطابق وقت پر فیصلہ نہ ہونے سے پسماندہ طبقات کے حقوق متاثر ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت جلد بلدیاتی انتخابات کرانے کی تیاری کر رہی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ریاست کی 52 فیصد بی سی آبادی کے مفادات کا مکمل تحفظ کیا جائے۔ ان کے مطابق ریزرویشن کے فریم ورک کو واضح کیے بغیر انتخابی شیڈول کا اعلان درست نہیں ہوگا۔
پسماندہ طبقات کے حقوق | BC Bill
کلواکنٹلا کویتا نے خبردار کیا کہ بل میں مزید تاخیر سے مقامی اداروں میں جمہوری نمائندگی متاثر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پسماندہ طبقات کے لیے مناسب نمائندگی صرف اسی صورت ممکن ہے جب ریزرویشن سے متعلق قانونی پہلو پہلے طے کیے جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک سال سے زائد عرصے تک بل کا زیر التوا رہنا خود بی سی طبقات کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ اس معاملے کو معمولی نہ سمجھے۔
دہلی میں قدم اٹھانے کی اپیل | BC Bill
کویتا نے ریاستی حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ تمام سیاسی جماعتوں پر مشتمل ایک وفد دہلی بھیج کر بل کی جلد منظوری کو یقینی بنائے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کی تجویز بھی دی تاکہ قانونی راستے سے اس تعطل کو ختم کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات سے قبل اس مسئلے کا حل حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق اگر حکومت نے بروقت اقدام نہ کیا تو اس کا سب سے زیادہ نقصان پسماندہ طبقات کی نمائندگی کو پہنچے گا۔
