حیدرآباد: تلنگانہ کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس بی شیودھر ریڈی نے منگل کے روز کہا کہ ریاست میں قانون ،نظم و ضبط کی صورتحال قابو میں رہی اور مجموعی جرائم کی شرح میں گزشتہ برس کے مقابلے 2.33 فیصد کمی درج کی گئی۔ انہوں نے تلنگانہ پولیس کی سالانہ رپورٹ 2025 جاری کرتے ہوئے یہ بات کہی۔
ڈی جی پی کے مطابق سال 2025 میں مجموعی طور پر 2,28,269 مقدمات درج ہوئے، جب کہ 2024 میں یہ تعداد 2,34,158 تھی۔ بھارتیہ نیائے سنہتا کے تحت درج مقدمات میں بھی 1.45 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
سزاؤں کی شرح میں اضافہ | Crime Control
ڈی جی پی نے بتایا کہ سال کے دوران سزاؤں کی شرح میں 3.09 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ شرح گزشتہ برس 35.63 فیصد سے بڑھ کر 2025 میں 38.72 فیصد تک پہنچ گئی۔ عدالتوں نے چار مقدمات میں سزائے موت سنائی، جب کہ 216 مقدمات میں 320 ملزمان کو عمر قید کی سزا دی گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ قتل کے واقعات میں 8.76 فیصد، عصمت دری کے مقدمات میں 13.45 فیصد، ڈکیتی میں 27 فیصد اور چوری کے معاملات میں 9.1 فیصد کمی درج کی گئی۔
سائبر کرائم اور پولیس کارکردگی | Crime Control
ڈی جی پی کے مطابق سال کے دوران 509 ماؤ نوازوں نے ہتھیار ڈالے، جن میں 23 کا تعلق تلنگانہ سے تھا۔ ریاست میں سائبر جرائم میں 3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جب کہ قومی سطح پر ایسے جرائم میں اضافہ ہوا۔
انہوں نے بتایا کہ تلنگانہ موبائل فون ریکوری میں ملک بھر میں سرفہرست رہا، جہاں پولیس روزانہ اوسطاً 111 موبائل فون برآمد کرنے میں کامیاب رہی۔ سائبر کرائم سے متعلق رقوم کی وصولی میں 23 فیصد اضافہ ہوا اور ₹246 کروڑ برآمد کیے گئے، جب کہ 24,498 متاثرین کو ₹159.65 کروڑ واپس کیے گئے۔
ڈی جی پی نے کہا کہ پولیس نے سال کے دوران دیہی پنچایت انتخابات، مس ورلڈ مقابلہ، عالمی سطح کے ایک پروگرام اور نظام آباد و کاماریڈی اضلاع میں سیلابی صورتحال کو مؤثر انداز میں سنبھالا، جس کے باعث کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ محکمہ پولیس میں خواتین افسران اہم ذمہ داریاں سنبھال رہی ہیں، جب کہ تلنگانہ پولیس نے جھارکھنڈ میں منعقدہ 68ویں آل انڈیا پولیس ڈیوٹی میٹ میں 18 تمغے اور عالمی پولیس و فائر گیمز میں 10 تمغے حاصل کیے۔
