حیدرآباد: تلنگانہ کے وزیر جوپلی کرشنا راؤ نے الزام عائد کیا ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ اپنے دس سالہ دورِ اقتدار میں ریاست کے آبی حقوق کے تحفظ میں ناکام رہے۔ جمعہ کے روز ایک میڈیا ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کے سی آر کے دور میں آبی نظم و نسق سے متعلق کئی سنگین غلط فیصلے کیے گئے، جن سے تلنگانہ کے حقوق کمزور ہوئے اور مختلف علاقوں کے کسانوں کو نقصان پہنچا۔
وزیر کے مطابق سابق وزیر اعلیٰ نے پالامورو کے معاملے میں صرف سیاسی فائدے کے لیے تشویش ظاہر کی تاکہ بھارت راشٹر سمیتی کو بچایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر واقعی نیت درست ہوتی تو دس برس کی حکومت کے باوجود پالامورو-رنگاریڈی منصوبہ مکمل کیوں نہ ہو سکا۔
انہوں نے کہا کہ صرف ایک پمپ ہاؤس کا افتتاح کر کے اسے قومی سطح پر وقف کرنا عوام کو گمراہ کرنے کے مترادف تھا۔ ان کے مطابق یہ اقدام زمینی حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔
آبی حقوق پر بدلتا مؤقف | Water Rights
جوپلی کرشنا راؤ نے یاد دلایا کہ بھارت راشٹر سمیتی نے پہلے سپریم کورٹ آف انڈیا میں یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ پالامورو-رنگاریڈی لفٹ ایریگیشن منصوبہ صرف پینے کے پانی کے لیے ہے۔ بعد ازاں سیاسی مفاد کے تحت اسی مؤقف کو تبدیل کیا گیا، جو عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ الزامات کسی سیاسی انتقام کا حصہ نہیں ہیں، کیونکہ عوام اپنا فیصلہ سنا چکے ہیں۔ ان کے مطابق اسمبلی، لوک سبھا اور حالیہ گرام پنچایت انتخابات کے نتائج اس بات کا ثبوت ہیں کہ بھارت راشٹر سمیتی عوامی اعتماد کھو چکی ہے۔
عوامی فیصلہ اور سیاسی حقیقت | Water Rights
وزیر نے کہا کہ تلنگانہ کے آبی حقوق کے معاملے پر سابق حکومت کی ساکھ ختم ہو چکی ہے۔ عوام نے واضح پیغام دیا ہے کہ محض دعوؤں سے نہیں بلکہ ٹھوس کام سے ہی اعتماد بحال ہو سکتا ہے۔
ان کے مطابق موجودہ حکومت آبی حقوق کے تحفظ اور کسانوں کے مفاد کے لیے واضح حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے، جبکہ ماضی کی غلطیوں کو دہرانے کا کوئی ارادہ نہیں۔
