حیدرآباد: چنئی-تروچی قومی شاہراہ پر بدھ کی رات ایک ہولناک بس حادثے میں 9 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ پولیس کے مطابق تمل ناڈو اسٹیٹ ایکسپریس ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی بس کا ٹائر پھٹنے کے بعد وہ بے قابو ہو کر دو کاروں سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں یہ افسوسناک واقعہ ضلع کڈلور میں پیش آیا۔
پولیس نے بتایا کہ بس تروچی سے چنئی جا رہی تھی کہ ایژوتھور کے قریب اچانک اگلا ٹائر پھٹ گیا۔ اس کے بعد ڈرائیور بس پر قابو نہ رکھ سکا، بس ڈیوائیڈر سے ٹکراتے ہوئے مخالف لین میں چلی گئی اور سامنے سے آنے والی دو کاروں کو زور دار ٹکر مار دی۔
ٹائر پھٹنے کا المیہ | Highway Tragedy
حادثے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ دونوں کاریں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں۔ نتیجتاً سات افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے، جبکہ بعد میں دو زخمی علاج کے دوران دم توڑ گئے، جس سے ہلاکتوں کی تعداد 9 ہو گئی۔
پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں کرور کے سونے کے تاجر راجارتنم (69)، ان کی اہلیہ راجیشوری (57) اور ان کے ڈرائیور جے کمار شامل ہیں، جو ایک کار میں سفر کر رہے تھے۔ دوسری کار میں پدوکوٹائی کے رہائشی مبارک، تاج برکا اور سراج الدین سوار تھے، جو حادثے میں جان سے گئے۔ پولیس نے بتایا کہ سراج الدین چنئی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایک رشتہ دار کو چھوڑ کر واپس لوٹ رہے تھے۔
ٹریفک متاثر | Highway Tragedy
حادثے کے بعد پولیس اور مقامی افراد نے فوری طور پر ریسکیو کارروائیاں شروع کیں، تاہم بُری طرح تباہ شدہ گاڑیوں سے لاشیں نکالنے میں شدید دشواری پیش آئی۔ اس دوران قومی شاہراہ پر کئی کلومیٹر تک ٹریفک جام ہو گیا اور گھنٹوں آمد و رفت متاثر رہی۔
دریں اثنا، پولیس نے تمل ناڈو میں حالیہ شاہراہ حادثات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ابتدائی مشاہدات کے مطابق گاڑیوں کی ناقص فٹنس اور باقاعدہ دیکھ بھال کی کمی ٹائر پھٹنے جیسے واقعات کی بڑی وجہ بن سکتی ہے۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
