حیدرآباد: رنگا ریڈی ضلع کے چیوڑلہ سڑک حادثے کی جانچ میں ایک اہم موڑ سامنے آیا ہے، جہاں پولیس نے ایف آئی آر میں ٹپر کے مالک کو مرکزی ملزم نامزد کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ فیصلہ تفتیش کے دوران سامنے آنے والے شواہد کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔
یہ ہولناک حادثہ چیوڑلہ منڈل کے مرزا گوڑہ کے قریب 3 نومبر کو پیش آیا تھا۔ اس وقت تانڈور سے حیدرآباد جانے والی آر ٹی سی بس تیز رفتار بجری سے لدے ٹپر سے آمنے سامنے ٹکرا گئی تھی، جو غلط سمت میں آ رہا تھا۔
حادثے میں بس کے 18 مسافر اور ٹپر ڈرائیور ہلاک ہو گئے تھے، جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 19 ہو گئی۔ کئی دیگر افراد شدید زخمی ہوئے، جو اب بھی مختلف اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔
اوورلوڈنگ پر توجہ | Chevella Crash
پولیس نے بتایا کہ تفتیش سے ثابت ہوا ہے کہ حادثے کی بنیادی وجوہات اوورلوڈنگ اور تیز رفتاری تھیں۔ اسی بنیاد پر ٹپر کے مالک لچھو نائک کو مرکزی ملزم بنایا گیا ہے۔
حکام کے مطابق حادثے کے وقت لچھو نائک خود بھی ٹپر میں ڈرائیور کے ساتھ موجود تھے۔ وہ شدید زخمی ہوئے اور اس وقت اسپتال میں علاج کرا رہے ہیں۔
ایف آئی آر میں تبدیلی | Chevella Crash
ابتدا میں پولیس نے ٹپر ڈرائیور آکاش کامبلے کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ تاہم بعد کی جانچ میں یہ بات سامنے آئی کہ گاڑی کو ضرورت سے زیادہ وزن کے ساتھ سڑک پر لانے کی اجازت مالک نے دی تھی، جس کے باعث ڈرائیور گاڑی پر قابو نہ رکھ سکا۔
چیوڑلہ پولیس کے مطابق مزید قانونی کارروائی طبی اور فرانزک رپورٹس موصول ہونے کے بعد کی جائے گی۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ اس معاملے میں ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
