حیدرآباد: تلنگانہ کے پنچایت راج اور دیہی ترقیات کی وزیر سیتکّا نے مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی اسکیم کا نام تبدیل کرنے کی مرکزی تجویز کی سخت مخالفت کی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس اقدام کے ذریعے اسکیم کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
مرکز کی جانب سے اسکیم کا نام تبدیل کر کے ایک نئے عنوان کے تحت لانے کی تجویز پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سیتکّا نے کہا کہ اس کے پیچھے واضح نیت کارفرما ہے۔ ان کے مطابق یہ محض نام کی تبدیلی نہیں بلکہ اسکیم کی روح کو متاثر کرنے کی کوشش ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ مرکز اسکیم کے طریقۂ کار میں بھی تبدیلی لانا چاہتا ہے۔ اسی تناظر میں انہوں نے مطالبہ کیا کہ مرکزی حکومت اس فیصلے کو فوری طور پر واپس لے۔
غریبوں کے مفاد پر ضرب | MGNREGS Rename
سیتکّا نے کہا کہ یہ فیصلہ مہاتما گاندھی کے دیہی غریبوں کو روزگار کی ضمانت دینے کے نظریے کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے غریب خاندانوں اور ریاستی حکومتوں دونوں کو نقصان پہنچے گا۔
انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں اس اسکیم کے لیے مکمل مالی تعاون مرکز فراہم کرتا تھا۔ بعد ازاں مرکز نے اپنا حصہ کم کر کے 60 فیصد کر دیا، جس کے باعث باقی 40 فیصد بوجھ ریاستوں پر آ گیا۔ ان کے مطابق یہ قدم ناانصافی پر مبنی ہے۔
مرکز پر ذمہ داریوں سے پیچھے ہٹنے کا الزام | MGNREGS Rename
وزیر نے خبردار کیا کہ اس فیصلے سے ریاستی مالیات پر شدید دباؤ پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ مرکز آہستہ آہستہ اس اسکیم کے تحت اپنی ذمہ داریوں سے پیچھے ہٹ رہا ہے۔
سیتکّا نے مزید الزام لگایا کہ اسکیم سے مہاتما گاندھی کا نام ہٹانا گاندھیائی اقدار کی مخالفت کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ حکومت ابتدا ہی سے اس پروگرام کے خلاف رہی ہے اور وقت کے ساتھ اسے کمزور کرنے کے اقدامات کیے گئے ہیں۔
