حیدرآباد: بی آر ایس ایم ایل سی داسوجو سراون نے کہا کہ 2025 کے پنچایت انتخابات کے پہلے مرحلے کے نتائج نے دیہی علاقوں میں وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کو واضح طور پر مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 4,236 گرام پنچایتوں کے نتائج بتاتے ہیں کہ روایتی طور پر حکمران جماعت کو فائدہ ملنے کے باوجود کانگریس کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ سراون نے اسے دیہی سطح پر بڑھتی ہوئی ناراضی کی علامت قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ بی آر ایس کے 1,345 سرپنچ عہدوں پر فتوحات اس بات کا ثبوت ہیں کہ عوام نے حکومت کی پالیسیوں کے خلاف ووٹ دیا۔ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ عوام نے “لالچ کی سیاست” اور “نمائش پسندی” کو ووٹ کے ذریعے مسترد کر دیا۔ سراون نے بی آر ایس امیدواروں کی تعریف کی جو مبینہ طور پر “پیسہ، دباؤ اور دھمکیوں” کے باوجود ڈٹے رہے۔
اہم حلقوں میں کانگریس کی ناکامی اور الزامات | Panchayat Verdict
سراون نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ کے آبائی علاقے کونڈاریڈی پلی کے قریب پولکم پلی میں کانگریس کی شکست اہم سیاسی اشارہ ہے۔ اسی طرح ایترونگرم، جہاں سیتکا نمائندگی کرتی ہیں، وہاں بھی پارٹی کو نقصان ہوا۔ انہوں نے کہا کہ محبوب آباد میں کانگریس ایم ایل اے مرلی نائک کی بھابھی کی شکست کے بعد مبینہ طور پر ووٹوں کے بدلے رقم واپس لینے کے الزامات سامنے آئے۔
انہوں نے جوبلی ہلز میں کانگریس کی جیت کو بھی بے ضابطگیوں سے جوڑا اور اسے “جمہوری اقدار کے لیے دھچکہ” قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ مثالیں واضح کرتی ہیں کہ عوام حکومتی کارکردگی سے نالاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال آئندہ مراحل میں کانگریس کے لیے مزید چیلنجز پیدا کر سکتی ہے۔
مالی بے ضابطگیوں کے الزامات اور بڑھتی سیاسی کشیدگی | Panchayat Verdict
سراون نے وزیر اعلیٰ پر مالی بدانتظامی کا الزام عائد کرتے ہوئے اپّل اسٹیڈیم میں ہونے والے 100 کروڑ روپے کے “میسی بمقابلہ میستری” تفریحی میچ کو نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق اس تقریب نے اسٹیڈیم کی پچ کو نقصان پہنچایا اور سنگارینی کولیریز کے فنڈز کا غلط استعمال کیا گیا، جبکہ حکومت فلاحی اسکیموں کے لیے فنڈز کی کمی کا دعویٰ کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان اقدامات نے عوامی ناراضی میں مزید اضافہ کیا ہے۔ سراون نے بی آر ایس کارکنوں سے کہا کہ وہ متحد رہیں اور اگلے مراحل میں مضبوط مینڈیٹ کے لیے تیار رہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کا ردعمل آنے والے انتخابات میں مزید واضح ہو جائے گا۔
پریس کانفرنس اور پارٹی کی حکمت عملی | Panchayat Verdict
پریس میٹ میں سابق سوماجی گوڑہ کارپوریٹر مہیش یادو اور سابق چیئرمین راکیش بھی موجود تھے۔ سراون نے کہا کہ بی آر ایس ایک واضح اور متحد حکمت عملی کے ساتھ آئندہ مراحل میں بہتر نتائج حاصل کرے گی۔ پارٹی قیادت کا ماننا ہے کہ عوام نے اپنے ووٹ سے واضح پیغام دیا ہے اور اب تنظیمی سطح پر تیاریوں میں تیزی لانا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ دیہی ووٹرز حکومت کی پالیسیوں اور مالی فیصلوں پر عدم اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ صورتحال آنے والے سیاسی منظرنامے پر گہرا اثر ڈال سکتی ہے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ بی آر ایس آئندہ مراحل میں بہتر کارکردگی دکھائے گی۔
