حیدرآباد: نلگنڈہ کے اسلام پور گاؤں میں 21 سالہ بویاپلی انوشا کی بطور سرپنچ شاندار کامیابی نے وسیع توجہ حاصل کی۔ انہوں نے اس برس بی ٹیک مکمل کیا اور کیمپس پلیسمنٹ بھی حاصل کیا تھا، مگر نجی ملازمت کے بجائے عوامی خدمت کو ترجیح دی۔
انوشا نے بی آر ایس کی حمایت سے انتخاب لڑا اور کانگریس کے تجربہ کار امیدوار کا مقابلہ کیا۔ انہیں 182 ووٹوں کی سبقت ملی، جسے دیہی سیاست میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ مقامی افراد نے ان کی دلچسپی اور گاؤں کی بہتری کے منصوبوں کو سراہا۔
تعلیم یافتہ قیادت کی ضرورت اجاگر | Youth Leadership
انوشا نے کہا کہ وہ یہ ثابت کرنا چاہتی ہیں کہ تعلیم یافتہ نوجوان بہتر منصوبہ بندی کے ذریعے دیہات کو ترقی دے سکتے ہیں۔ انہوں نے گاؤں والوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ عوام کا اعتماد ان کی ہمت کو بڑھاتا ہے۔
رہائشیوں نے بتایا کہ ایک تعلیم یافتہ نوجوان کا ملازمت چھوڑ کر سیاست میں آنا بڑا موضوع بنا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دیہی علاقوں میں نئی نسل قیادت کی طرف بڑھ رہی ہے۔
دیہی ترقی کے نئے امکانات | Youth Leadership
مقامی لوگوں نے امید ظاہر کی کہ جدید تعلیم اور تازہ نقطہ نظر کے ساتھ انوشا گاؤں کی ترقی کی رفتار تیز کریں گی۔ انہوں نے منصوبہ بندی، صفائی، بنیادی سہولتوں اور نوجوانوں کی شمولیت کے لیے نئے طریقے اپنانے کا عزم ظاہر کیا۔
