حیدرآباد: انڈیگو کے چیئرمین وکرَم سنگھ مہتا نے مسافروں کو ہونے والی شدید پریشانی پر معذرت کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ خلل ناقابل قبول تھا۔ ان کے مطابق کمپنی ایک جامع تحقیق شروع کر رہی ہے جس میں بیرونی ٹیکنیکل ماہرین بھی شامل ہوں گے تاکہ اصل خرابی کا سبب واضح ہو سکے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ایئرلائن عوامی توقعات پر پورا نہیں اتر سکی۔
مہتا نے بتایا کہ 3 دسمبر کو غیر متوقع حالات کے باعث بڑی تعداد میں پروازیں منسوخ کرنا پڑیں۔ ہزاروں مسافروں کو تاخیر کا سامنا رہا اور ان کے سفری منصوبے متاثر ہوئے۔ کمپنی کی جانب سے جاری ایک ویڈیو پیغام میں مہتا نے واضح انداز میں معذرت پیش کی۔ ان کے مطابق مستقبل میں ایسے واقعات کو روکنے کے لئے نظام مضبوط بنایا جائے گا۔
انڈیگو پر دباؤ میں اضافہ | Flight Disruptions
ہفتے بھر جاری رہنے والے خلل کے دوران ہزاروں پروازیں متاثر ہوئیں۔ صرف بدھ کے دن 220 سروسز منسوخ ہوئیں۔ ڈی جی سی اے نے صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے آٹھ رکنی ٹیم تشکیل دی ہے جو انڈیگو کی تمام سرگرمیوں کی نگرانی کرے گی۔ ریگولیٹر نے سی ای او پیٹر ایلبرز کو 11 دسمبر کو طلب بھی کیا ہے تاکہ کمپنی سے براہ راست جواب حاصل کیا جا سکے۔
اصلاحات کی یقین دہانی | Flight Disruptions
مہتا نے کہا کہ ادارہ تنقید کو قبول کرتا ہے اور مستقبل میں اس جیسے خلل سے بچنے کے لیے نئے حفاظتی اقدامات کرے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بورڈ بیرونی تحقیق کی تمام رپورٹوں کا تفصیلی جائزہ لے گا۔ اس سے قبل سی ای او پیٹر ایلبرز نے کہا تھا کہ ایک ہفتے کی افراتفری کے بعد آپریشن آہستہ آہستہ معمول پر آ رہے ہیں۔
