حیدرآباد: مرکزی مملکتی وزیر اور بی جے پی تلنگانہ صدر جی کشن ریڈی نے منگل کی شب پارٹی کے سوشل میڈیا کنوینر کی مبینہ نصف رات گرفتاری کی سخت مذمت کی۔ انہوں نے اس اقدام کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اپوزیشن کو خاموش کرانے کی کوشش ہے اور سیاسی ماحول کو خراب کرتا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں انہوں نے کانگریس حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ وہی طرز عمل جاری رکھے ہوئے ہے جو ان کے مطابق بی آر ایس دور میں بھی دیکھا گیا تھا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب سیاسی پوسٹروں پر ایسی کارروائیاں ہوں تو تلنگانہ کی سرمایہ کاری کی ساکھ کیسے برقرار رہے گی۔
بی جے پی کے مطابق یہ عمل سیاسی اختلافات کو دبانے کی سوچی سمجھی کوشش ہے۔
گرفتاری پر سیاسی ردعمل اور عالمی سمٹ کا پس منظر | Political Tension
کشن ریڈی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی کی قیادت والی حکومت “بے صبر اور عدم برداشت رکھنے والے حکمران” کی مانند برتاؤ کر رہی ہے۔ ان کے مطابق اس طرح کے اقدامات جمہوری اصولوں کو کمزور کرتے ہیں اور ریاست کی ساکھ کو عالمی سطح پر متاثر کر دیتے ہیں، خصوصاً اس وقت جب حیدرآباد بین الاقوامی سرمایہ کاری سمٹ کی میزبانی کر رہا ہے۔
انہوں نے تحریر کیا کہ تلنگانہ کے عوام کانگریس حکومت کے آمرانہ رویے اور ایمرجنسی جیسی سوچ کو معاف نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ طرز عمل اختلاف رائے کو دبانے کی جانب واضح اشارہ ہے۔
بی جے پی رہنماؤں کے مطابق ڈیجیٹل ونگ کے خلاف یہ کارروائی ایک بڑے عالمی ایونٹ کے دوران سیاسی مقاصد کے تحت کی گئی ہے، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو رہی ہے۔
اس واقعے نے ریاست میں سیاسی درجہ حرارت بڑھا دیا ہے۔ اپوزیشن اور حکومت کے درمیان جاری لفظی کشمکش تلنگانہ کے سیاسی منظر نامے میں نئی تیزی کا باعث بن رہی ہے، جبکہ عالمی سرمایہ کاروں کی موجودگی میں یہ تنازعہ مزید توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
అది BRS ప్రభుత్వమైనా, ప్రస్తుత కాంగ్రెస్ ప్రభుత్వమైనా తెలంగాణ రాష్ట్రంలో ప్రతిపక్షాల గొంతును అణచివేసే ప్రక్రియ మాత్రం కొనసాగుతూనే ఉంది.
ఒక వైపు, తెలంగాణ ప్రభుత్వం సరళమైన విధానాలతో, న్యాయమైన నియంత్రణతో, చట్టబద్ధమైన పాలనను సాగిస్తున్నామని చెప్పుకుంటూ, హైదరాబాద్ను ప్రపంచ… https://t.co/FOrqPmAde7
— G Kishan Reddy (@kishanreddybjp) December 9, 2025
