حیدرآباد: انڈیگو ایئرلائنز کا بحران آٹھویں روز میں داخل ہوگیا، جس کے باعث ملک بھر میں سفر شدید متاثر ہوا۔ متعدد کوششوں کے باوجود کمپنی معمول کی پروازیں بحال نہ کر سکی۔ اسی وجہ سے حیدرآباد میں منگل کو بڑے پیمانے پر خلل دیکھنے میں آیا۔ شمس آباد سے دیگر ریاستوں کے لیے روانہ ہونے والی 14 پروازیں منسوخ کر دی گئیں، جبکہ مختلف علاقوں سے آنے والی 44 پروازوں کو بھی روک دیا گیا۔ مجموعی طور پر 56 پروازیں منسوخ ہونے سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
مسافروں نے شکوہ کیا کہ اچانک تبدیلیوں سے ان کے سفر کے مکمل منصوبے متاثر ہوگئے۔ متبادل ٹکٹیں حاصل کرنا بھی مشکل رہا کیونکہ دیگر پروازیں تیزی سے بھر گئیں۔ اگرچہ ایئرپورٹ ٹیمیں مسلسل معلومات فراہم کرتی رہیں، تاہم طویل قطاریں اور بدلتے شیڈول دن بھر مسافروں کے لیے پریشانی کا باعث رہے۔
ڈی جی سی اے کی مداخلت اور سخت سوالات | Indigo Crisis
ہوابازی کے نگران ادارے ڈی جی سی اے نے بحران کی شدت دیکھتے ہوئے فوری ایکشن لیا۔ ادارے نے تمام بڑی ایئرلائنز، بشمول انڈیگو، کو نوٹس جاری کیے اور جاری منسوخیوں کی تفصیلی وضاحت طلب کی۔ اب اعلیٰ عہدیداران کو ریگولیٹر کے سامنے پیش ہو کر اس وسیع خلل کی وجوہات بتانا ہوں گی۔ حکام نے واضح کیا کہ مسافروں کی مشکلات کے پیشِ نظر کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
ڈی جی سی اے نے ہدایات جاری کی ہیں کہ ایئرلائنز بڑے پیمانے پر رکاوٹوں کی صورت میں مسافروں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات وضع کریں۔ ادھر انڈیگو نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ صورتحال کو بہتر بنانے پر کام کر رہی ہے اور 10 دسمبر تک مکمل خدمات بحال کرنے کا ہدف رکھتی ہے۔ کمپنی نے مزید کہا کہ اس کی ٹیمیں تاخیر کم کرنے اور مسافروں کو کم سے کم رکاوٹوں کے ساتھ ان کی منزل تک پہنچانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
مسافروں کی مشکلات اور بحالی کی کوششیں | Indigo Crisis
ایئرلائنز کی جانب سے بار بار منسوخیاں اور تاخیر نے ہزاروں مسافروں کی روزمرہ سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتِ حال نے فضائی صنعت میں آپریشنل منصوبہ بندی کے کمزور پہلوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ کئی مسافر بہتر رہنمائی اور واضح شیڈول کے منتظر رہے، جبکہ ایئرپورٹ حکام نے ہنگامی اسٹاف تعینات کرکے صورت حال کو سنبھالنے کی کوشش کی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر بحران جلد قابو میں نہ آیا تو سفر کی لاگت میں اضافہ، پروازوں کی مزید کمی اور مسافروں کا اعتماد متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔ اس دوران، حکام اور ایئر لائنز دونوں کو ایک مشترکہ حکمت عملی تیار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں ایسی افراتفری سے بچا جا سکے۔
