حیدرآباد: حبیب گوڈہ کے ایک 75 سالہ معمر شہری سے فیس بک پر فروغ دی جانے والی فراڈ اسکیم کے ذریعے 1.09 لاکھ روپے نکال لیے گئے۔ واقعہ اس وقت پیش آیا جب انہیں گھریلو اشیاء کے لیے محض 298 روپے کا پرکشش سودہ دکھایا گیا۔ پیشکش پر بھروسہ کرتے ہوئے انہوں نے لنک پر اپنی بنیادی تفصیلات درج کر دیں، جس کے فوراً بعد ایک نامعلوم شخص نے ان سے رابطہ کیا اور واٹس ایپ کے ذریعے ایک اے-پی-کے فائل بھیجی۔
پس منظر کے مطابق، متاثرہ شخص نے فائل کھولی اور کریڈٹ کارڈ کے ذریعے 298 روپے ادا کیے۔ چند ہی منٹوں میں ان کے فون کا کنٹرول سائبر مجرموں کے ہاتھ میں چلا گیا۔ اے-پی-کے انسٹالیشن کے ذریعے دھوکہ بازوں نے سلسلہ وار غیر مجاز ٹرانزیکشن کرتے ہوئے مجموعی طور پر 1.09 لاکھ روپے نکال لیے۔ بعد ازاں متاثرہ شخص نے سائبر کرائم پولیس اسٹیشن سے رجوع کرتے ہوئے شکایت درج کرائی۔
پولیس کی وارننگ اور احتیاطی تدابیر | Fake Offer
پولیس کے مطابق مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر غیر حقیقی سودوں کی تشہیر بڑھتی جا رہی ہے، جن کا مقصد صارفین کو جال میں پھنسانا ہوتا ہے۔ اے-پی-کے فائلیں ڈاؤن لوڈ کرنے سے مجرموں کو موبائل تک رسائی مل جاتی ہے اور وہ مالیاتی معلومات چرا لیتے ہیں۔ افسران نے مشورہ دیا کہ صارفین کسی بھی بیرونی لنک پر کلک کرنے سے پہلے تصدیق کریں اور مشکوک اسکیموں سے گریز کریں۔
مزید یہ کہ فوراً رپورٹ درج کرانا تفتیش میں مدد دیتا ہے اور ڈیجیٹل فراڈ نیٹ ورکس کا سراغ لگانا آسان ہو جاتا ہے۔ پولیس نے کہا کہ بروقت معلومات دینے سے دیگر شہریوں کو بھی ایسے واقعات سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔
متاثرین کے لیے فوری اقدامات | Fake Offer
ماہرین کے مطابق اگر کسی کو معلوم ہو کہ اس کا فون اے-پی-کے یا مشکوک لنک سے متاثر ہوا ہے تو فوری طور پر نیٹ بینکنگ اور کارڈ سروسز کو بلاک کر دینا چاہیے۔ متعلقہ بینک اور سائبر کرائم حکام کو مطلع کرنا پہلا اہم قدم ہے۔ ایسے کیسز میں وقت کی بچت مالی نقصان کو کم کرسکتی ہے۔
اختتام میں افسران نے کہا کہ دسمبر کے دوران آن لائن فروخت اور پروموشنز بڑھ جاتے ہیں، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دھوکہ باز سرگرم ہو جاتے ہیں۔ اس لیے احتیاط اور تصدیق صارفین کے لیے اولین حفاظتی ہتھیار ہیں۔
