حیدرآباد: پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے دوسرے دن اپوزیشن نے اسپیشل انٹنسیو ریویژن (SIR) پر فوری بحث کا مطالبہ کیا، جس کے نتیجے میں ایوان میں شدید ہنگامہ آرائی دیکھی گئی۔ اپوزیشن نے موخر تحریک کے ذریعے اجازت مانگی، مگر اسپیکر اوم برلا نے درخواست مسترد کر دی۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی دونوں ایوانوں میں شور اور نعرے بازی شروع ہو گئی۔
اراکین نے پلے کارڈ اٹھا کر نعرے لگائے اور ویل کی جانب بڑھنے کی کوشش کی۔ اسپیکر نے متعدد بار تنبیہ کی، مگر احتجاج مزید تیز ہو گیا۔ بعد ازاں اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ کے احاطے میں پہنچے اور وہاں بھی احتجاج جاری رکھا۔ ان کا الزام تھا کہ SIR میں لاکھوں اہل ووٹرز، خصوصاً کمزور طبقات سے تعلق رکھنے والوں کے نام حذف کئے گئے، جو جمہوری حقوق کے خلاف ہیں۔ انہوں نے دہلی میں حالیہ دہشت گرد حملے سمیت دیگر عوامی امور پر بحث کا مطالبہ بھی کیا۔
ایوان میں بڑھتی بے نظمی اور حکومت کا مؤقف | Session Protest
حکومت نے اپوزیشن کے احتجاج کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ SIR الیکشن کمیشن کے دائرے میں آتا ہے، پارلیمنٹ کے نہیں۔ حکومتی اراکین نے اسپیکر کی سابقہ ہدایات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قواعد کے مطابق ایوان میں اس موضوع پر بحث ممکن نہیں۔
سخت ماحول کے باوجود اپوزیشن ارکان مسلسل نعرے لگاتے رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ انتخابی فہرستوں میں تبدیلیاں انتخابی شفافیت پر سوال اٹھاتی ہیں اور عوامی اعتماد کو متاثر کرتی ہیں۔ حکومتی بینچوں نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن ایوان کی کارروائی میں خلل ڈال رہی ہے۔
اسپیکر کی کارروائی ملتوی کرنے کی ہدایت | Session Protest
لوک سبھا میں ہنگامہ اپنی شدت پر رہا۔ اسپیکر کی متعدد اپیلوں اور ہدایات کے باوجود احتجاج کم نہ ہوا۔ مسلسل شور اور بے نظمی کے باعث اوم برلا نے ایوان کی کارروائی دوپہر تک کے لئے ملتوی کر دی۔
سیاسی حلقوں نے اس صورت حال کو سرمائی اجلاس کے بقیہ ایام کے لئے تشویشناک قرار دیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ایوان میں اس طرح کی رکاوٹیں اہم قانون سازی کو متاثر کر سکتی ہیں۔ اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ وہ عوامی مسائل پر بحث کے مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔
