حیدرآباد: تلنگانہ بی جے پی قائدین نے ریاست میں ہِلٹ پالیسی میں بڑے گھوٹالے کا الزام عائد کرتے ہوئے گورنر جِشنو دیو ورما کو شکایت پیش کی ہے۔ وفد نے راج بھون میں ملاقات کے دوران کہا کہ اس پالیسی سے سرکاری اراضی کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ بی جے پی کا مؤقف ہے کہ پالیسی کا فوری جائزہ ناگزیر ہو گیا ہے۔
پارٹی کے ریاستی صدر رام چندر راؤ نے کہا کہ قیمتی صنعتی اراضی ماضی میں بہت کم قیمت پر الاٹ کی گئی تھی۔ ان کے مطابق انہی علاقوں میں آج قیمت 100 کروڑ روپے فی ایکڑ کے قریب پہنچ چکی ہے۔ قیمتوں میں اس بڑے فرق نے ریئل اسٹیٹ مفاد رکھنے والوں کو بے انتہا فائدے کا راستہ دکھا دیا ہے۔
راؤ کا کہنا ہے کہ پالیسی میں موجود کمزوریوں سے ناجائز استعمال کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے سرکاری مفاد کو نقصان اور نجی فائدے کے دروازے کھل سکتے ہیں۔
بی جے پی کے خدشات اور صنعتی شعبے پر اثرات | HILT Policy Scam
رام چندر راؤ نے کہا کہ نو ہزار ایکڑ سے زائد اراضی غیر محفوظ ہو چکی ہے اور خطرہ ہے کہ یہ علاقے ریئل اسٹیٹ میں تبدیل ہو جائیں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر زمین کے استعمال کو تحفظ نہ ملا تو فعال صنعتیں بند ہونے کے قریب پہنچ سکتی ہیں، جس سے مقامی روزگار بھی متاثر ہوگا۔
وفد کے مطابق اس پالیسی کے بغیر روک ٹوک اطلاق سے ریاست کی طویل مدتی صنعتی منصوبہ بندی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی ڈھانچے کو کمزور کرنا ریاستی معیشت کے لیے نقصان دہ ہوگا۔
گورنر کو تفصیلی شکایات اور فوری کارروائی کی اپیل | HILT Policy Scam
بی جے پی وفد نے گورنر کو پالیسی سے متعلق تمام نکات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ غیر منظم تبدیلیاں مستقبل کے منصوبوں کے لیے سنگین خدشات پیدا کرتی ہیں۔ پارٹی نے فوری جانچ کا مطالبہ کیا تاکہ پالیسی میں موجود خامیاں سامنے آسکیں اور عوامی مفاد کا تحفظ ہو سکے۔
رام چندر راؤ کے مطابق تمام دستاویزات اور شواہد گورنر کے سامنے رکھ دیے گئے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اعلیٰ سطحی کارروائی جلد شروع ہوگی۔
