حیدرآباد:حیدرآباد پولیس نے کمپنیوں کو آگاہ کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (آرٹیفشل انٹلیجنس، اے آئی ) کے بڑھتے استعمال کے ساتھ ایک نیا سائبر خطرہ تیزی سے ابھر رہا ہے۔ پولیس کمشنر وی سی سجنار نے ایکس پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ تنظیموں کو فوری طور پر سخت حفاظتی اقدامات اختیار کرنا ہوں گے۔ ان کے مطابق جدید ٹیکنالوجی نے جہاں سہولتیں بڑھائی ہیں، وہیں نئے حملوں کے دروازے بھی کھولے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کمپنیاں کسٹمر سپورٹ، تیز ورک فلو اور کم اخراجات کے لیے اے آئی چیٹ بوٹس پر زیادہ انحصار کر رہی ہیں۔ اب تخریبی عناصر انہی سسٹمز کو گمراہ کرنے کے لیے خطرناک پرامپٹس استعمال کر رہے ہیں، جس سے بعض اوقات حساس ریکارڈ تک رسائی کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
اے آئی پرامپٹس کے ذریعے خطرناک رسائی کا امکان – AI Security
سجنار نے وضاحت کی کہ پرامپٹ انجکشن دراصل ماڈل کو دی جانے والی ہدایات کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا طریقہ ہے۔ اس سے ماڈل الجھ جاتا ہے اور وہ معلومات ظاہر کر سکتا ہے جو صارف کو نہیں ملنی چاہییں۔ انہوں نے کہا کہ کئی کمپنیاں اے آئی ٹولز کو سی آر ایم، ملازمین کے ڈیٹا اور مالیاتی نظام سے جوڑ دیتی ہیں، جس سے ایک غلط حکم پوری سکیورٹی کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
ان کے مطابق یہ مسئلہ تیزی سے بڑھ رہا ہے اور ضروری ہے کہ کمپنیاں حفاظتی دیواریں مضبوط کریں۔ ورنہ قیمتی معلومات مجرمانہ گروہوں کے ہاتھ لگ سکتی ہے۔
حفاظتی اقدامات اور ملٹی لیئر ڈیفنس کی اہمیت – AI Security
سجنار نے مشورہ دیا کہ ادارے ماڈل سطح پر تربیت، سخت پرامپٹ فلٹرز اور اے پی آئی کنٹرولز کو بہتر بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ باقاعدہ آڈٹ، محدود ڈیٹا پرمیشنز اور مسلسل مانیٹرنگ جیسی تدابیر بھی ضروری ہیں۔ ان کے مطابق سنگل ڈیفنس پر انحصار کافی نہیں ہوتا، اس لیے ملٹی لیئر سکیورٹی ہی حقیقی تحفظ فراہم کر سکتی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ تمام ادارے اے آئی ٹیکنالوجی کے ساتھ ذمہ دارانہ طرزِعمل اپنائیں، کیونکہ آج کا معمولی نظر آنے والا حملہ کل بڑے نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ پولیس نے کہا کہ محفوظ اور محتاط سسٹمز ہی مستقبل کے سائبر خطرات کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔
ఏఐకి ‘మాటల’ మాయ.. కంపెనీల డేటాకు ‘ప్రాంప్ట్’ గండం!
కృత్రిమ మేధ (AI) విస్తృతి పెరిగాక.. చిన్న స్టార్టప్ల నుంచి బడా మల్టీ నేషనల్ కంపెనీల వరకు అంతా ఇప్పుడు ‘ఏఐ చాట్బోట్’ల జపం చేస్తున్నాయి. కస్టమర్ల సందేహాలకు క్షణాల్లో సమాధానాలివ్వడం, పని వేగం పెంచడం, ఖర్చు తగ్గించడం వంటి… pic.twitter.com/rvdPuMGExe
— V.C. Sajjanar, IPS (@SajjanarVC) December 1, 2025
