حیدرآباد: شاہ پور نگر میں ایک کمسن بچی پر بہیمانہ تشدد کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد پولیس نے اسکول کی آیا کو گرفتار کرلیا۔ بچی کی عمر پانچ سال ہے اور یہ واقعہ نرسری کلاس کے اندر پیش آیا۔ والدین نے ویڈیو ملنے کے فوراً بعد پولیس میں شکایت درج کرائی جس کے بعد مقدمہ قتل کی کوشش کے تحت درج ہوا۔
تحقیقات کے مطابق متاثرہ بچی دھریتری کے والدین سنتوشی اور کالیا ،اوڈیشہ سے چند ماہ قبل شہر منتقل ہوئے تھے۔ والدہ سنتوشی پورنیما اسکول میں آیا کے طور پر کام کرتی ہیں جبکہ ان کی بیٹی نرسری میں تعلیم حاصل کرتی ہے۔ ایک اور آیالکشمماں اکثر اس بچی کو نشانہ بناتی تھی جب اس کی والدہ کلاس سے باہر جاتی تھیں۔
ویڈیو میں اسکول کے اندر تشدد کی تفصیلات – School Assault
ہفتے کی شام لکشمماں نے بچی کو بالوں سے پکڑ کر فرش پر دے مارا۔ اس نے بچی کو دھکا دیا اور لات بھی ماری۔ اسکول کے قریب موجود ایک لڑکے نے یہ تمام منظر اپنے فون میں ریکارڈ کیا۔ اس نے ویڈیو بچی کے والدین کے حوالے کی جس سے پورا معاملہ بے نقاب ہوگیا۔
والدین نے پہلے اسکول انتظامیہ سے کارروائی کا مطالبہ کیا، مگر کوئی جواب نہیں ملا۔ اس کے بعد وہ اتوار کو جیڈی میٹلا پولیس اسٹیشن پہنچے اور ویڈیو جمع کرائی۔ پولیس نے شکایت لی اور چند ہی گھنٹوں میں لکشمماں کو گرفتار کرلیا۔ زخمی بچی کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔
پولیس تحقیقات اور آئندہ کارروائی – School Assault
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ سنگین نوعیت کا ہے اور مکمل حقیقت سامنے لانے کے لیے تفصیلی تفتیش جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ذمہ داروں کی نشاندہی تک تحقیقات جاری رہیں گی۔ پولیس کے مطابق بچوں کے تحفظ سے متعلق قواعد کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی اور ضروری قانونی کارروائی کی جائے گی۔
افسران نے والدین کو یقین دلایا کہ معاملے میں مکمل شفافیت رکھی جائے گی۔ مقامی افراد نے بھی مطالبہ کیا کہ اسکول انتظامیہ پر سخت نظر رکھی جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات پیش نہ آئیں۔
