حیدرآباد:پرانے شہر میں پولیس انسپکٹر کے خلاف بھاری وصولیوں کے تازہ الزامات سامنے آئے ہیں۔ تاجروں اور مقامی رہائشیوں نے کہا کہ ساؤتھ ویسٹ زون کے ایک انسپکٹر نے اسٹیشن کو ذاتی کاروبار میں بدل دیا ہے۔ ان کے مطابق ہر کام کی مقررہ ریٹ طے کی گئی تھی اور دکانداروں، مارکیٹ کے ذمہ داروں اور کالونی ایسوسی ایشنز سے رقم وصولی معمول کا حصہ بن گئی تھی۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ انکار کی صورت میں کیس درج کرنے اور ہراسانی کی دھمکیاں دی جاتیں۔
شہریوں نے شکایت کی کہ اسٹیشن آنے والے افراد سے اُن کے مسئلے کی نوعیت کے مطابق رقم مانگی جاتی تھی۔ ان کے مطابق انسپکٹر ایف آئی آر درج کرنے سے بھی انکار کر دیتا اگر رقم ادا نہ کی جاتی۔ نوٹس جاری کرنے کے لیے 2,000 سے 10,000 روپئے تک وصول کیے جانے کا الزام ہے۔ تاجروں نے کہا کہ گزشتہ چند ہفتوں میں یہ سرگرمیاں مزید بڑھ گئی تھیں۔
بھاری رقوم، جعلی سی سی ٹی وی بہانہ اور ’’گاڈ فادر‘‘ کا سہارا | Police Extortion
مقامی افراد نے دعویٰ کیا کہ انسپکٹر نے تعلیمی اداروں، اسپتالوں، بارز، ریستورانوں، سٹہ گروپس اور بیلٹ شاپس سے تقریباً 20 لاکھ روپئے جمع کیے۔ یہ سب سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کے نام پر ہوا، جبکہ کیمرے کہیں نصب نہیں کیے گئے۔ عوام کا کہنا ہے کہ ایک سینئر “گاڈ فادر” کی پشت پناہی کی وجہ سے وہ کھلے عام یہ سب جاری رکھے ہوئے تھا۔
یہ الزامات اس وقت شدید تنقید کا باعث بنے جب کمشنر وی سی سجنار نے شہریوں سے آئی سی ای سرویلنس نیٹ ورک میں تعاون کی اپیل کی۔ مقامی لوگوں نے سوال کیا کہ غیرقانونی وصولیاں کیسے جاری ہیں جب اعلیٰ افسران خود سی سی ٹی وی نظام کے لیے عوامی تعاون چاہتے ہیں۔
کیس بدلنے، رقم لینے اور جرائم پیشہ گروہوں کی سرپرستی کے الزامات | Police Extortion
مکینوں نے دو ماہ قبل پیش آیا وہ واقعہ بھی یاد دلایا جب شادی کی بارات میں چار نوجوانوں کی تلوار لہراتی ویڈیوز سامنے آئیں۔ سینئر افسران نے فوری کارروائی کا حکم دیا، مگر الزام ہے کہ انسپکٹر نے 2.5 لاکھ روپئے وصول کرکے اصل ملزمان کو بدل دیا۔ بعد میں وہی نوجوان ذاتی کاموں کے لیے بلائے جاتے رہے۔
اسٹیشن اسٹاف نے مزید انکشافات کیے۔ ان کے مطابق انسپکٹر سٹہ اور جوا گروپس کی سرپرستی کرتا تھا اور ان سے ماہانہ رقم لیتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ سرگرمیاں اسٹیشن کی ’’روٹین‘‘ بن چکی تھیں۔ ایک تازہ واقعے میں عملے نے رات گئے سٹہ گروپ کو پکڑا، مگر انسپکٹر نے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے گروپ کی حمایت کی، ضبط شدہ فون واپس کیے اور انہیں جانے دیا۔ اس پر اسٹاف میں بھی بے چینی پھیلی۔
سابق ساتھیوں نے بتایا کہ اس کے خلاف پہلے بھی شکایات آچکی ہیں، حتیٰ کہ خواتین کانسٹیبلز کی ہراسانی کے باعث اس کا تبادلہ بھی ہوا تھا، مگر رویّے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
عوام کا مطالبہ: فوری کارروائی اور قانون و اعتماد کی بحالی | Police Extortion
حالات بگڑنے پر مقامی لوگوں نے کمشنر سجنار سے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اہلکاروں کے خلاف مؤثر قدم نہ اٹھایا گیا تو پولیس پر عوامی اعتماد مزید کم ہو جائے گا۔ شہریوں نے زور دیا کہ محکمہ جاتی کارروائی ہی نظام میں شفافیت بحال کر سکتی ہے۔
