حیدرآباد: تلنگانہ ہائی کورٹ نے پنچایت انتخابات کو روکنے سے انکار کیا اور واضح کیا کہ اس مرحلے پر انتخابی عمل معطل نہیں کیا جا سکتا۔ بینچ نے پوچھا کہ کیا صرف اس بنا پر پورا عمل منسوخ کیا جائے کہ نوٹیفکیشن میں ذیلی زمرہ ریزرویشن شامل نہیں تھے؟ عدالت کا کہنا تھا کہ انتخابی سرگرمیاں پہلے ہی جاری ہیں۔
عدالت نے جمعہ کی سماعت میں 42 فیصد ریزرویشن سے متعلق جی او-46 کے چیلنج پر دلائل کا جائزہ لیا۔ دونوں فریقوں کو یاد دلایا گیا کہ عدالت پہلے ہی ہدایت دے چکی ہے کہ موجودہ فریم ورک کے تحت انتخابی عمل جاری رکھا جائے۔ دوسری جانب درخواست گزار کے وکیل نے 2009 کی جی ایچ ایم سی انتخابات کی مثال دی، جنہیں عدالت نے ایسے ہی حالات میں کالعدم کیا تھا۔ الیکشن کمیشن کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد عدالتی مداخلت مناسب نہیں ہوتی۔
عدالت کی مداخلت کی حد محدود | Poll Dispute
بینچ نے کہا کہ موجودہ مرحلہ عدالت کے اختیارات کو محدود کرتا ہے، اس لیے انتخابات پر روک نہیں لگائی جا سکتی۔ عدالت کے مطابق وہ سرکار کو عمل جاری رکھنے کی ہدایت دینے کے بعد اس پر حکم امتناع جاری نہیں کر سکتی۔
درخواست گزار نے ریزرویشن سے متعلق کمیشن کی رپورٹ پیش کرنے کی استدعا کی، تاہم عدالت نے یہ درخواست مسترد کر دی اور کہا کہ ایسی معلومات باضابطہ طریقے سے حاصل کی جائیں۔ عدالت نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی کہ ذیلی زمرہ ریزرویشن پر اپنا جواب چھ ہفتے میں داخل کرے۔
آئندہ سماعت اور حکومتی جواب | Poll Dispute
بینچ نے کیس کو آٹھ ہفتوں کے لیے ملتوی کر دیا تاکہ حکومت تفصیلی جواب داخل کر سکے اور مزید دلائل پیش کیے جا سکیں۔ عدالت کا کہنا تھا کہ انتخابی عمل جاری رہنے سے قانونی عمل میں رکاوٹ نہیں آئے گی۔ معاملہ اب آئندہ سماعت میں مزید واضح ہوگا۔
