حیدرآباد: صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے بدھ کو یومِ آئین کے موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ ہندوستان کا آئین ہر شہری کے شخصی اور جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ یہ پیغام سامویدھان سدن، پارلیمنٹ میں دیا گیا جہاں نائب صدر سی پی رادھا کرشنن، لوک سبھا اسپیکر اوم برلا، وزیر اعظم نریندر مودی اور دونوں ایوانوں کے سینئر ارکان موجود تھے۔
صدر نے کہا کہ بدلتے وقتوں میں بھی آئین ملک کی رہنمائی کرتا آ رہا ہے اور یہی رہنمائی مستقبل کی سمت متعین کرتی ہے۔
انہوں نے 26 نومبر 1949 کو بنیادی موڑ قرار دیتے ہوئے یاد دلایا کہ اسی دن دستور ساز اسمبلی نے مسودہ مکمل کیا تھا۔ ان کے مطابق آئین جمہوری اقدار کے مشترکہ عزم کی علامت ہے، اور ڈاکٹر بی۔ آر۔ امبیڈکر نے ڈرافٹنگ کمیٹی کے سربراہ کی حیثیت سے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔
قومی ترقی اور اصلاحات پر زور | Constitution Address
صدر نے کہا کہ آئین سازوں نے آزادیوں کے تحفظ کے ساتھ جمہوریت کو مضبوط کرنے کا سفر یقینی بنایا۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ برسوں میں 25 کروڑ افراد کو غربت سے نکالنا ایک بڑی کامیابی ہے۔
خواتین، نوجوان، درج فہرست ذاتیں و قبائل، کسان اور متوسط طبقہ۔ان تمام طبقات نے جمہوری اداروں کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کئی اہم اصلاحات کا ذکر کیا جنہوں نے قومی ترقی کی راہ ہموار کی۔ تین طلاق پر پابندی کو انہوں نے دیرینہ سماجی مسئلے کا حل قرار دیا۔ جی ایس ٹی نے اقتصادی یکجہتی کو بہتر کیا، جبکہ آرٹیکل 370 کی منسوخی نے سیاسی انضمام کی راہ ہموار کی۔
ناری شکتی بندھن ایکٹ کے ذریعے خواتین کی ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہو رہا ہے، جسے انہوں نے تاریخی پیش رفت کہا۔
صدر مرمو نے بتایا کہ وندے ماترم کے 150 سال مکمل ہونے کے موقع پر قومی سطح پر تقریبات جاری ہیں۔ انہوں نے دستور کے ڈیجیٹل ورژنز نو زبانوں میں جاری کیے، جن میں تلگو، ملیالم، مراٹھی اور اوڈیا شامل ہیں۔
تقریب میں شامل تمام ارکان نے آئین کی تمہید پڑھ کر انصاف، آزادی، مساوات اور اخوت کے عزم کو دوبارہ مضبوط کیا۔
