حیدرآباد: تلنگانہ کابینہ نے منگل کے روز شہری نظم و نسق اور برقی شعبے میں دور رس تبدیلیاں منظور کر دیں۔ وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کی صدارت میں ڈاکٹر بی آر امبیڈکر تلنگانہ سیکریٹریٹ میں منعقدہ اجلاس میں 27 شہری بلدیات کو گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن میں ضم کرنے کی منظوری دی گئی۔ اس کے ساتھ ہی بجلی کی ترسیل، قابل تجدید توانائی اور صنعتی توانائی پالیسی میں نئی اصلاحات بھی متعارف کرائی گئیں۔
حکومت نے آوٹر رنگ روڈ کے اندر اور اس کے اطراف واقع میونسپلٹیز و میونسپل کارپوریشنز کو جی ایچ ایم سی میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس مقصد کے لیے جی ایچ ایم سی ایکٹ اور تلنگانہ میونسپل ایکٹ میں ترمیم کی تیاری بھی شروع کر دی گئی۔ فیصلہ کے بعد وزرا بھٹی وکرمارکا ، سریدھر بابو،اُتم کمار ریڈی، جوپلی کرشنا راؤ، واکٹی سری ہری اور اڈلوری لکشمن نے میڈیا کو تفصیلات سے آگاہ کیا۔
برقی شعبے میں بڑے فیصلے، زیرِ زمین کیبلنگ اور نئی ڈسکام | Major Cabinet Decisions
کابینہ نے حیدرآباد میں زیرِ زمین برقی کیبل نیٹ ورک کی منظوری دی، جس کی لاگت تقریباً 14,725 کروڑ روپے ہوگی۔ یہ کام تین حصوں میں انجام پائے گا اور حکومت کے مطابق اس سے برقی سپلائی زیادہ مستحکم ہو جائے گی۔
اس کے ساتھ ہی ایک نئی ڈسٹری بیوشن کمپنی کا قیام بھی منظور ہوا۔ این پی ڈی سی ایل اور ایس پی ڈی سی ایل اپنی خدمات جاری رکھیں گے جبکہ نئی ڈسکام زرعی بجلی، لفٹ اریگیشن اسکیمیں، مشن بھگیرتا، پینے کے پانی کے منصوبے اور ایچ ایم ڈبلیو ایس ایس بی کے برقی امور سنبھالے گی۔
قابل تجدید توانائی کی ضرورت کے پیشِ نظر کابینہ نے آئندہ برسوں کی طلب کے مطابق اقدامات کی ہدایت دی۔ 3,000 میگاواٹ شمسی توانائی اور 2,000 میگاواٹ پمپڈ اسٹوریج پاور کے لیے پانچ سالہ معاہدوں کے تحت ٹینڈرز بلائے جائیں گے۔ مزید یہ کہ 10,000 میگاواٹ کے پمپڈ اسٹوریج پراجیکٹس کے لیے زمین اور پانی کی الاٹمنٹ منظور کی گئی، جس کے تحت کمپنیوں کو اپنی پیداوار پہلے ریاستی ڈسکامز کو فراہم کرنی ہوگی۔
راماگنڈم تھرمل پاور اسٹیشن میں 800 میگاواٹ کے یونٹ کی تعمیر کی بھی منظوری دی گئی، جبکہ پلوونچہ اور مکتھل میں این ٹی پی سی کے ممکنہ اختیارات کا جائزہ لینے کی ہدایت دی گئی۔
صنعت، تعلیم اور فلاحی شعبوں کے لیے مزید اقدامات | Major Cabinet Decisions
صنعتی شعبے کے لیے کلین اینڈ گرین انرجی پالیسی کو وسعت دی گئی ہے۔ اب صنعتی یونٹس کو اپنی بجلی پیدا کرنے کی اجازت فوری طور پر مل سکے گی، جس کی گنجائش پر کوئی حد مقرر نہیں ہوگی۔
فلاحی و تعلیمی شعبوں میں کابینہ نے بھدرادری کوتہ گوڑم ضلع کے ڈوموگوڈم منڈل میں پیدانللّہ بیلّی میں ایس سی، ایس ٹی، بی سی ینگ انڈیا انٹیگریٹڈ ریزیڈینشل اسکول کے لیے 20.28 ایکڑ مختص کیے۔ اسی طرح مُلّگ ضلع کے جگنّا پیٹ میں اسپورٹس اسکول کے لیے 40 ایکڑ الاٹ کیے گئے۔ جوبلی ہلز سمیت چھ آئی ٹی آئیز کو ایڈوانسڈ ٹریننگ سینٹر کا درجہ دینے کی بھی منظوری دی گئی۔
