حیدرآباد: تلنگانہ سائبر سکیورٹی بیورو نے ایک بڑی کارروائی کے دوران بین ریاستی سطح پر سرگرم مبینہ دھوکہ باز شیخ باشا سلطان کو گرفتار کرلیا۔ کارروائی اس وقت شروع ہوئی جب نظام آباد CCCS میں آن لائن ٹریڈنگ فراڈ کی شکایت درج ہوئی۔ ابتدائی سراغ ملتے ہی ٹیم نے اس مشتبہ شخص کا پتہ چلکلورپیٹ، آندھرا پردیش میں لگایا اور اسی مقام پر گرفتاری عمل میں آئی۔
تحقیقات سے معلوم ہوا کہ وہ واٹس ایپ کے ذریعے “انیا شرما” کے نام سے رابطہ قائم کرتا تھا۔ اس کے بعد جعلی آن لائن ٹریڈنگ اسکیمیں پیش کی جاتی تھیں، جن کے نتیجے میں ایک متاثرہ شخص سے 7,75,000 روپئے ہتھیائے گئے۔ تفتیش کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ اکتوبر میں پانچ ریاستوں میں پکڑے گئے 81 مشتبہ افراد کو اس کی اعانت حاصل رہی، جس سے پورے نیٹ ورک کی سنگینی واضح ہوئی۔
وسیع تر تفتیش میں نئی پیش رفت | Cyber Arrest
افسران کے مطابق اس کے ربط 26 سائبر کرائم معاملات سے جڑے ہوئے ہیں، جن میں تلنگانہ کے تین کیس بھی شامل ہیں۔ مزید جانچ سے یہ بھی پتا چلا کہ وہ رقم کی غیر قانونی منتقلی کے سلسلے میں نیپال کے دو افراد، رامیشور اور راجیش، کے ساتھ مل کر کام کرتا تھا۔ دونوں کے خلاف Look Out Circular جاری کردیا گیا ہے۔
مرکزی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ یہ گرفتاری ریاست میں بڑھتی آن لائن فراڈ سرگرمیوں کے خلاف ایک اہم موڑ ثابت ہوسکتی ہے۔ تفتیشی عمل مزید روابط اور ممکنہ بین الاقوامی کنکشنز کا جائزہ لے رہا ہے تاکہ اس طرح کی سازشوں کو جڑ سے ختم کیا جاسکے۔
ریاستی سکیورٹی حکمت عملی میں اہم سنگ میل | Cyber Arrest
محکمہ سائبر سکیورٹی کا مؤقف ہے کہ اس کارروائی نے بڑے مالیاتی نیٹ ورک کی تہہ تک پہنچنے میں مدد دی۔ دستاویزات، چیٹ ہسٹری اور لین دین کے ریکارڈ کی بنیاد پر مزید ناموں کی نشاندہی کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ نئے شواہد کارروائی کے اگلے مرحلے کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔
ریاستی سطح پر سائبر سکیورٹی حکمت عملی کو مضبوط بنانے کے لیے یہ قدم انتہائی اہم سمجھا جارہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تیز رفتار تحقیقات اور مربوط کارروائی اس طرح کے جرائم کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
