حیدرآباد: آئی بومّا ویب سائٹ کے آپریٹر کے گرفتار ہونے کے بعد یہ انکشاف ہوا کہ اس نے پچاس لاکھ صارفین کا ڈیٹا ڈارک ویب پر فروخت کیا۔
صارفین کی تشویش اور روک تھام کی ضرورت | Ibomma Case
اس واقعہ نے ہزاروں افراد میں تشویش کی لہر دوڑادی ہے، خصوصاً ان میں جنہوں نے ویب سائٹ کا استعمال کیا تھا۔ عوامی سوالات بڑھتے دیکھ کر اسپیشل سی ایس (ہوم) سی وی آنند نے ایکس پر وضاحت پیش کی۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی جوں جوں آگے بڑھتی ہے، ہیکنگ بھی نت نئے طریقوں سے سامنے آتی ہے۔ ایک مجرم کی گرفتاری کے بعد کوئی دوسرا فوراً سرگرم ہوجاتا ہے، اس لئے یہ توقع کہ چند گرفتاریاں سائبر جرائم کو ختم کر دیں گی، درست نہیں۔ انہوں نے اسے عام جرائم سے تشبیہ دی، جن میں گرفتاریوں کے باوجود مکمل خاتمہ کبھی نہیں ہوتا۔
ذاتی حفاظت، آن لائن نظم و ضبط اور آگاہی | Ibomma Case
سی وی آنند نے کہا کہ بچاؤ ہی واحد مضبوط حکمت عملی ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ صارفین آسان راستوں، مفت سہولتوں اور جلد فائدے کی لالچ سے دور رہیں کیونکہ یہی عوامل دھوکہ دہی کو بڑھاتے ہیں۔
اسپیشل سی ایس ہوم کہا کہ مضبوط پاس ورڈ، ٹو فیکٹر لاگ اِن اور محتاط براؤزنگ جیسے اقدامات ضروری ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ غیر ذمہ دارانہ کلکس اور غیر مصدقہ ویب سائٹس کا استعمال ڈیٹا چوری کا بنیادی ذریعہ بنتا ہے۔
انہوں نے راجامولی کے ایک معروف قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’زندگی میں کچھ بھی مفت نہیں ملتا‘‘، اس لئے شخصی نظم و ضبط ضروری ہے۔
صارفین کو مشورہ دیا گیا کہ مشکوک پلیٹ فارمز سے مکمل دور رہیں تاکہ ڈیٹا محفوظ رہے اور مجموعی ڈجیٹل ماحول بھی محفوظ ہو سکے۔ سی وی آنند کے مطابق جب تک غیر قانونی ویب سائٹس کی مانگ باقی رہے گی، یہ نیٹ ورک بھی چلتا رہے گا۔
