حیدرآباد: تلنگانہ کے وزیر اُتم کمار ریڈی نے دہلی میں مرکزی وزیر آبی وسائل سی آر پٹیل سے ملاقات کرتے ہوئے ریاست کے زیر التوا آبی منصوبوں کیلئے فوری منظوری اور فنڈز کا مطالبہ کیا۔
تلنگانہ کے اہم مطالبات اور مرکز سے تعاون | Water Projects Telangana
اس ملاقات میں انہوں نے بتایا کہ تاخیر کی وجہ سے کرشنا اور گوداوری بیسن میں تلنگانہ کے حصے پر اثر پڑ رہا ہے۔ انہوں نے پولاورم-بناکاچرلہ تجویز کی سخت مخالفت کی اور کہا کہ آندھرا پردیش نے پرانے منصوبے کو نئے نام سے آگے بڑھانے کی کوشش کی ہے، جو بالا دستی کے باعث تلنگانہ کیلئے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔
انہوں نے کرناٹک کی طرف سے الماٹی ڈیم کی سطح بڑھانے کے اقدام پر بھی تشویش ظاہر کی، جس پر پہلے ہی سپریم کورٹ کی روک جاری ہے۔
فنڈز، منظوری اور آبی حقوق کا تحفظ | Water Projects Telangana
اُتم کمار ریڈی نے کہا کہ کئی تلنگانہ آبی منصوبے برسوں سے رکے ہوئے ہیں، حالانکہ بیشتر تکنیکی اعتراضات نمٹا دیئے گئے ہیں۔ باقی امور کیلئے مرکز کی فوری توجہ ضروری ہے تاکہ ریاست کے آئینی اور تاریخی آبی حقوق محفوظ رہ سکیں۔

انہوں نے قومی پروگراموں کے تحت مکمل ہونے کے قریب آبپاشی اسکیموں کیلئے فنڈز کی منظوری کا مطالبہ کیا۔ ساتھ ہی 90 ٹی ایم سی الاٹمنٹ میں سے 45 ٹی ایم سی کی پہلی قسط کی منظوری کا بھی اعادہ کیا۔
انہوں نے یاد دلایا کہ سَمّکّا ساگر منصوبے پر اٹھائے گئے اعتراضات دور کر دیئے گئے ہیں، اس لئے فوری منظوری دی جانی چاہئے۔
بڑے بین دریائی منصوبوں کیلئے مالی اور انتظامی مدد | Water Projects Telangana
انہوں نے پرانہیتا-چیوڑلہ، پلامورو-رنگاریڈی اور سیتاراما جیسے اہم منصوبوں کیلئے مالی تعاون کی درخواست کی۔ ان کا کہنا تھا کہ آندھرا پردیش پولاورم کے پانی کو ایسے راستوں سے موڑنے کی کوشش کر رہا ہے جن سے تلنگانہ کے حقوق متاثر ہو سکتے ہیں، اس لئے مرکز واضح ہدایات دے۔
انہوں نے کہا کہ بروقت فیصلہ سازی اور فوری فنڈنگ سے ریاست کے رکے ہوئے آبی منصوبے تکمیل کے قریب پہنچ جائیں گے، جس سے لاکھوں کسانوں کو براہِ راست فائدہ ہوگا۔
