حیدرآباد: آئی ٹی و انڈسٹریز منسٹر دُدّیلا سری دھر بابو نے کہا کہ تلنگانہ 2030 تک بھارت کا ایرو انجن کیپیٹل بننے جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بات ہفتہ کے روز آئی ایس بی حیدرآباد میں منعقدہ ’انڈیا ایروسپیس اینڈ ڈیفنس مینوفیکچرنگ سمٹ‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ منسٹر نے بتایا کہ ریاست ایک جامع روڈ میپ کے ذریعے عالمی معیار کا ایروسپیس اور ڈیفنس ایکو سسٹم تیار کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی اداروں اور تعلیمی تنظیموں کے اشتراک سے یہ ہدف آسان ہوگا۔
ایرو انجن مشن تلنگانہ کا ترقیاتی لائحہ عمل | Aero Mission
انہوں نے کہا کہ سابق کانگریس حکومتوں کی ابتدائی پہل نے تلنگانہ میں ڈیفنس سیکٹر کی مضبوط بنیاد رکھی۔ اسی وجہ سے آج ریاست کے پاس مکمل دفاعی مرکز بنانے کی حکمتِ عملی موجود ہے۔ مزید کہا کہ موجودہ جیو پولیٹیکل حالات اور عالمی سپلائی چین میں تبدیلی سے بھارت جیسے قابلِ اعتماد ملکوں کی اہمیت بڑھی ہے، جس سے تلنگانہ فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پچھلے سال بھارت کی دفاعی پیداوار ڈیڑھ لاکھ کروڑ تک پہنچی، جبکہ برآمدات میں 12 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ اعداد و شمار عالمی اعتماد کی علامت ہیں۔ تلنگانہ نے 2047 تک 3 ٹریلین ڈالر معاشی ہدف کیلئے ایروسپیس و ڈیفنس کو اہم ستون قرار دیا ہے۔
تلنگانہ میں ایروسپیس سرمایہ کاری اور برآمدات میں ریکارڈ اضافہ | Aero Mission
اس وقت ریاست میں 25 سے زائد بڑی ڈیفنس و ایروسپیس کمپنیاں اور 1500 سے زیادہ ایم ایس ایم ای یونٹس سرگرم ہیں۔ صرف 2024–25 کے پہلے نو ماہ میں ایروسپیس برآمدات 15,900 کروڑ سے بڑھ کر 30,742 کروڑ تک پہنچ گئیں۔
نئی سرمایہ کاریوں نے ریاست کے صنعتی منظرنامے کو مضبوط کیا ہے، جن میں آدی بٹلا میں 425 کروڑ کی ٹاٹا–سیفران ایرو انجن فیکٹری شامل ہے جو اب مکمل طور پر فعال ہے۔ اسی طرح 800 کروڑ کا جے ایس ڈبلیو ڈیفنس کا UAV یونٹ اور 500 کروڑ کا پریمئیر ایکسپلوسیو فسیلٹی بھی تکمیل کے قریب ہے۔
سری دھر بابو نے بتایا کہ کئی بین الاقوامی کمپنیاں تلنگانہ میں سرمایہ کاری کیلئے حتمی مراحل میں ہیں۔ سمٹ میں ہیرو انٹرپرائزز کے چیئرمین سنیل کانت منجال اور آئی ایس بی کے ڈین پروفیسر پی مدن سمیت کئی صنعتی و تعلیمی رہنما موجود تھے۔
